نظام آباد اربن: عدم اتحاد کی وجہ بادشاہ گر کا موقف بے اثر

   

Ferty9 Clinic

حلقہ میں مسلسل 4 مرتبہ سے مسلم امیدواروں کو ناکامی کا سامنا، ذاتی اغراض و مقاصد کو بالائے طاق رکھنے کی ضرورت

نظام آباد ۔ 3 ڈسمبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) نظام آباد اربن حلقہ سے مسلم امیدواروں کو مسلسل ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔2009 ء میں پرجا راجیم پارٹی کی جانب سے عبدالرحیم سیفی نے انتخابات میں حصہ لیا تھا اور انہیں تیسرا مقام حاصل ہوا اور انہوں نے 15,902 ووٹ حاصل کئے تھے ۔ 2014 ء میں مجلس کی جانب سے میر مجاز علی کے انتخابات میں حصہ لیا تو ان کا مقابلہ بی آرایس کے گنیش گپتا سے تھا اور مجلس کو تقریباً10,308 ووٹوں کی اکثریت سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑاتھا ۔ اسی طرح 2018 ء میںطاہر بن حمدان کانگریس پارٹی کی جانب سے انتخابات میں حصہ لیا تو ان کا مقابلہ بی آرایس کے گنیش گپتا سے تھا اور طاہر بن حمدان کو تقریباً25,841 ووٹوں کی اکثریت سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا اور 2023 ء کے انتخابات میں محمد علی شبیر کانگریس پارٹی کی جانب سے مقابلہ کیا تو ان کا مقابلہ بی جے پی اور بی آرایس پارٹی کے امیدواروں کے ساتھ تھا ۔ بی آرایس پار ٹی اس مرتبہ انتخابات میں تیسرے مقام پر رہی اور کانگریس پارٹی کودوسرا مقام حاصل ہوا اور بی جے پی کو 75,240 ووٹ حاصل ہوئے تو کانگریس کو 59,853 اور بی آرایس کو 44,829ووٹ حاصل ہوئے۔ اس طرح شبیر علی کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، اس کے علاوہ 1985 ء میں کانگریس پارٹی کی جانب سے نظام آبادحلقہ سے طاہر بن حمدان انتخابات میں حصہ لیا تو اس وقت طاہر بن حمدان کو تلگودیشم کے ستیہ نارائنا کے ہاتھوں شکست کھانا پڑااور 1989 ء میں الماس خان مجلس کی جانب سے حصہ لیتے ہوئے ناکامی کا سامنا کیا تھا نظام آباد اربن حلقہ میں تقریباً1 لاکھ 20 ہزار ووٹ ہونے کے باوجود بھی عدم اتحاد کے باعث مسلم امیدواروں کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑرہاہے ۔ مسلسل تین انتخابات سے نظام آباد اربن سے مسلم امیدوار مقابلہ کررہے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی مسلم امیدواروں کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ شہر حیدرآباد کے بعد نظام آباد میں مسلمانوں کی قابل لحاظ تعداد ہے اور 1لاکھ 20 ہزار رائے دہندے ہونے کے باوجود بھی یکطرفہ فیصلہ نہ کرنے اور عدم اتحاد کے باعث مسلم امیدواروں کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ 2014 ء میں مجلس کی جانب سے مقابلہ کرنے والے میر مجاز علی اور بی رآرایس گنیش گپتا کے درمیان سخت مقابلہ رہا لیکن ووٹوں کی تقسیم کی وجہ سے میر مجاز علی کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اسی طرح 2018 ء میں طاہر بن حمدان اور گنیش گپتا کے درمیان مقابلہ رہا اور مسلم ووٹوں کی تقسیم کی وجہ سے گنیش گپتا کو کامیابی حاصل ہوئی تھی اور اس انتخابات میں کانگریس پارٹی کے امیدوار محمد علی شبیر باربار اتحاد کا ذکر کرتے ہوئے دو مرتبہ دھوکہ کھاچکے ہیں لہذا اتحاد پیدا کرنے کی خواہش کی تھی اور محمد علی شبیر کی اپیل پر جماعت اسلامی اور جمعیت العلماء نے شبیر علی کے حق میں انتخابی مہم چلاتے ہوئے ان کی کامیابی کیلئے ہر ممکنہ کوشش کی لیکن سیاسی رائے علیحدہ علیحدہ ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کے ووٹ تقسیم ہوگئے اور مسلم امیدوار کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اگر مسلمانوں میں اتحاد پیدا نہیں ہوا تو آنے والے دنوں میں اس کا اور بھی خمیازہ بھگتنے کے امکانات ہیں اور علمائے دین کو اس بات کا نوٹ لینا ناگزیر سمجھا جارہا ہے کہ اپنی رائے کو بالائے طاق اور اغراض سے ہٹ کر کام کریں تو مسلم امیدوار کی کامیابی یقینی ہوسکتی ہے ورنہ آنے والے دنوں میں اس طرح کے ہی نتائج کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔