کاماریڈی سے ریونت ریڈی اور نظام آباد اربن سے محمد علی شبیر کے مقابلے کا قوی امکان ، تجسس برقرار
نظام آباد :یکم ؍ نومبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز )اسمبلی انتخابات میں مقابلہ کرنے والے امیدواروں کو پرچہ نامزدگی داخل کرنے کیلئے 3؍ نومبر سے عمل کا آغاز ہورہا ہے ۔ لیکن کانگریس اور بی جے پی کی جانب سے متحدہ ضلع کے چند اسمبلی حلقہ جات کے امیدواروں کے ناموں کا اعلان نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے دونوں پارٹیوں میں دعویداروں میں تجسس پایا جارہا ہے بالخصوص نظام آباد اربن اور کاماریڈی اسمبلی حلقوں کے کانگریس امیدواروں کے ناموں کو لیکر کوئی واضح موقف ظاہر نہ ہونے کی وجہ سے دونوں اسمبلی حلقوں کے دعویداروں میں تجسس دیکھا جارہا ہے کاماریڈی اسمبلی حلقہ سے چیف منسٹر مسٹر چندر شیکھررائو مقابلہ کے اعلان کے بعد پردیش کانگریس کے صدر ریونت ریڈی کاماریڈی سے مقابلہ کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد کانگریس پارٹی ہائی کمان نے سینئر کانگریسی قائد محمد علی شبیر کو کاماریڈی کے بجائے نظام آباد اربن سے مقابلہ کرنے کی ہدایت دی تھی جس پر محمد علی شبیر نے ہائی کمان کے فیصلہ کو تسلیم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا ریاست کی صورتحال اور کمیونسٹ پارٹیوں کے ساتھ اتحاد و دیگر مسائل پر کانگریس الیکشن کمیٹی اور اسکرینگ کمیٹی کے مذاکرات کے بعد کاماریڈی ، نظام آباد کے ساتھ ساتھ باقی جملہ 19 اسمبلی حلقہ جات کے امیدوار وں کے ناموں کا اعلان کئے جانے کے امکانات ہیں ۔کل ہند کانگریس کے سابق صدر رکن پارلیمنٹ راہول گاندھی دو دنوں سے تلنگانہ کے دورہ پر ہیں اور اسکریننگ کمیٹی نے تمام زاویوں سے جائزہ لیتے ہوئے الیکشن کمیٹی کو رپورٹ پیش کرنے کی اطلاع ہے اور راہول گاندھی اپنے دورہ کے اختتام کے بعد آج شام دلی پہنچ رہے ہیں کل الیکشن کمیٹی کا اجلاس منعقد کرتے ہوئے کل دوپہر تک امیدواروں کے ناموں کا اعلان کئے جانے کے امکانات ہیں ۔ کانگریس پارٹی کے ذرائع سے حصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق محمد علی شبیر کا نظام آباد سے مقابلہ کیا جانا طئے شدہ نظر آرہا ہے اور ریونت ریڈی کوڑنگل کے ساتھ ساتھ کاماریڈی سے چیف منسٹر کیخلاف مقابلہ کرنے کے قوی امکانات ہیں ۔ نظام آباد سے شبیر علی کا مقابلہ کانٹے کا مقابلہ ہوگا اور یہاں پر تینوں جماعتیں بی آرایس ، کانگریس ، بی جے پی کے درمیان سخت مقابلہ ہوگا لیکن مسلم ووٹوں کا بادشاہ گر کا موقف حاصل ہے اور کانگریس ہائی کمان نے مسلم ووٹوں کی تعداد کو دیکھتے ہوئے محمد علی شبیر کو یہاں سے مقابلہ کرنے کی ہدایت دی ہے نظام آباد اربن اسمبلی حلقہ میں جملہ 2لاکھ 86 ہزار سے زائد ووٹ ہے تو ان میں 1لاکھ 20 ہزار مسلم ووٹ ہے اور مسلم ووٹ حاصل کرنے والے جماعت کی کامیابی یقینی ہوگی۔