اکثریتی علاقوں میں سست رفتار پولنگ، اقلیتی علاقوں میں زبردست جوش و خروش کا اظہار
نظام آباد ۔ 30 نومبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) حلقہ اسمبلی نظام آباد اربن میں رائے دہی کا پرُ امن اختتام عمل میں آیا۔ اکثریتی علاقوں کے رائے دہندوں میں سابق کی طرح اس مرتبہ جوش نظر نہیں آیا لیکن اقلیتی علاقوں میں صبح 7 بجے سے ہی پولنگ بوتھ پر قطار دیکھی گئی اور اقلیتی علاقہ میں 55 فیصد سے زائد رائے دہی درج ہونے کے امکانات ظاہر کئے جارہے ہیں جبکہ مجموعی رائے دہی شام 5 بجے تک 59.10 فیصد رہی ۔ ای و ی ایم کی خرابی کے باعث چند بوتھ پر پولنگ رک گئی تھی اور مشینوں کی تبدیلی لاتے ہوئے ایک گھنٹہ کے بعد پولنگ شروع ہونے کی وجہ سے ان علاقوں میں ایک گھنٹہ بڑھایا دیا گیا ۔ بی آرایس امیدوار بیگالہ گنیش گپتا نے اپنے ارکان خاندان کے ساتھ گنگا ستھان کے ایس آر ڈیجیٹل اسکول میں حق رائے دہی کا استعمال کیا جبکہ بی جے پی کے امیدوار دھن پال سوریہ نارائنا نے بھی اپنے ارکان خاندان کے ساتھ حق رائے دہی کا استعمال کیا ۔ پردیش کانگریس کے ورکنگ پریسیڈنٹ مہیش کمار گوڑ نے بھی نظام آباد پہنچ کر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا ۔ آج صبح سے ہی نظام آباد میں پولنگ اکثریتی علاقہ میں سست رفتار دیکھی گئی جبکہ عام طور پر نظام آباد کے اقلیتی علاقہ میں پولنگ سست رفتار دیکھی جاتی تھی۔ اس مرتبہ خواتین کو گھروں سے نکل کر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرتے ہوئے دیکھا گیا ۔ بی آرایس اور کانگریس کے کارکنوں کو اقلیتی علاقہ میں رائے دہندگان کو گھروں سے نکالتے ہوئے دیکھا گیا جبکہ اکثریتی علاقہ میں اس کا کوئی خاص اثر نہیں دیکھا گیا ۔ اسپیکر اسمبلی و بانسواڑہ امیدوار پوچارام سرینواس ریڈی بالکنڈہ کے امیدوار و ریاستی وزیر پرشانت ریڈی نے بھی اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا ۔ ضلع کلکٹر راجیو گاندھی ہنمنتو پولنگ اسٹیشن نمبر 216 میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا ۔ مجموعی طور پر رائے دہی پرُ امن رہی لیکن قلعہ روڈ پر واقع نیشنل اسکول پولنگ اسٹیشن نمبر 54 پر بی جے پی امیدوار دھن پال سوریہ نارائنا پولنگ بوتھ پہنچتے ہی حالات کشیدہ ہوگئے پولیس فوری حرکت میں آتے ہوئے یہاں پر موجودہ پارٹی کارکنوں کو باہر کردیا ۔ ضلع کلکٹر و الیکشن آفیسر راجیو گاندھی ہنمنتو ، پولیس کمشنر کلمیشور نے صورتحال کا وقفہ وقفہ سے جائزہ لیتے رہے ۔
