کانگریس کی طاقت میں اضافہ، اروند دھرم پوری سے بی جے پی کو فائدہ، کویتا سے ٹی آر ایس کو توقعات
حیدرآباد۔/15جنوری، ( سیاست نیوز) نظام آباد میں ٹی آر ایس قیادت کیلئے بلدی انتخابات اب ایک چیلنج بن گئے ہیں جہاں سابق رکن پارلیمنٹ کے کویتا اپنی پارٹی کی انتخابی مہم میں سرگرم نہیں ہیں۔ چنانچہ چیف منسٹر اور ٹی آر ایس کے صدر کے چندر شیکھر راؤ نے اس ضلع میں اپنی پارٹی کے امیدواروں کو کامیاب بنانے کی ذمہ داری وزراء اور ارکان اسمبلی کو دی ہے۔ ماضی میں یہ ذمہ داری کویتا کے کاندھوں پر تھی۔ کویتا درحقیقت اس ذمہ داری کو بخوبی نبھائی تھیں اور حتیٰ کہ کارپوریٹرس کی کم تعداد کے باوجود میئر کے عہدہ پر قبضہ میں کامیابی حاصل کی تھیں۔ تاہم پارلیمانی انتخابات میں شکست کے بعد کویتا اس ضلع سے دور ہی رہیں۔ حتیٰ کہ ٹی آر ایس کی ضلعی قیادت کو بھی ان تک رسائی حاصل نہ ہوسکی تھی کیونکہ ٹی آر ایس کے زیر اہتمام منعقد شدنی پروگراموں میں بھی وہ شرکت نہیں کررہی تھیں۔ ان وجوہات سے نظام آباد میں ٹی آر ایس کی بنیادیں کمزور ہورہی ہیں۔ پارلیمانی انتخابات میں شکست کے بعد اس کوضلع پرجا پریشد اور منڈل پرجاپریشد کے انتخابات کیلئے چیلنج کا سامنا تھا۔ ٹی آر ایس نے اگرچہ ضلع پریشد تو جیت لیا لیکن کانگریس کو سب سے زیادہ ووٹ حاصل ہوئے جس سے ظاہر ہوگیا ہے کہ ٹی آر ایس کی قیادت اس ضلع میں کانگریس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو روک نہیں سکی۔ نظام آباد میں ایک میونسپل کارپوریشن اور تین میونسپلٹی ہیں جن میں کاماریڈی شامل نہیں ہے۔ اسپیکر پوچارم سرینواس ریڈی کا کاماریڈی میں اثر و رسوخ ہے یہ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ نظام آباد کے رکن پارلیمنٹ اروند دھرم پوری کی مقبولیت کی بنیاد پر میئر اور صدرنشین کے عہدوں پر بی جے پی امیدواروں کی کامیابی کے امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ ضلع کے اکثر ٹی آر ایس قائدین کا احساس ہے کہ اگر کویتا اس حلقہ پر توجہ مرکوز کرتی ہیں تو ٹی آر ایس کی کامیابی کے امکانات بہتر ہوسکتے ہیں۔