نظام آباد میونسپل ملازمین کا احتجاج، مسائل حل نہ ہونے پر ہڑتال کا انتباہ

   

سی آئی جی گروپس کو برقرار رکھنے کا مطالبہ، ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کے دوران مزدور تنظیموں کی دو خاتون ارکان بے ہوش، دواخانہ منتقل

نظام آباد۔ 17 مارچ (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) میونسپل ملازمین کے مسائل کی فوری یکسوئی اور موجودہ سی آئی جی گروپس کو برقرار رکھنے کے مطالبہ پر ٹی یو سی آئی، اے آئی ٹی یو سی اور سی آئی ٹی یو مزدور تنظیموں کے زیر اہتمام میونسپل کارکنوں اور ڈرائیوروں نے ایک بڑی ریالی نکالی اور بعد ازاں میونسپل کمشنر کے چیمبر کے روبرو دھرنا دیا۔ یہ ریالی قدیم میونسپل دفتر سے شروع ہو کر کورٹ چوراستہ اور دھرنا چوک سے گزرتے ہوئے نئے میونسپل دفتر تک پہنچی۔ پولیس نے ابتدا میں ملازمین کو میونسپل دفتر میں داخل ہونے سے روک دیا جس کے باعث کچھ دیر کشیدگی کی صورتحال پیدا ہوگئی، تاہم مزدور نعرے بازی کرتے ہوئے کمشنر کے چیمبر تک پہنچ گئے اور وہاں احتجاجی دھرنا دیا گیا۔اس موقع پر ٹی یو سی آئی کے ضلعی جنرل سکریٹری ایم سدھاکر، سی آئی ٹی یو کے ضلعی نائب صدر اے رمیش بابو، اے آئی ٹی یو سی کے ضلعی سکریٹری اومیاہ اور ڈرائیورس یونین کے صدر لکشمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نظام آباد میونسپل کارپوریشن کے صفائی شعبہ میں پہلے ہی آؤٹ سورسنگ کارکنوں کے لئے کامن انٹرسٹ گروپس (سی آئی جی) موجود ہیں جبکہ اس کے علاوہ آؤٹ سورسنگ ایجنسی کے تحت تقریباً 330 کارکن خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واٹر ورکس کے کارکن اور ڈرائیور ابھی تک سی آئی جی گروپس میں شامل نہیں ہیں، لہٰذا انہیں ہی نئے گروپس میں شامل کیا جائے اور پہلے سے موجود سی آئی جی گروپس کو ختم کرنے کی کوشش نہ کی جائے کیونکہ اس سے کام کا بوجھ بڑھ جائے گا۔ مزدور قائدین نے مطالبہ کیا کہ موجودہ سی آئی جی گروپس کو برقرار رکھتے ہوئے آؤٹ سورسنگ ایجنسی کے 330 کارکنوں اور واٹر ورکس کے ملازمین کو 25 تا 35 افراد پر مشتمل گروپس میں منظم کیا جائے۔قائدین نے مزید کہا کہ اگر موجودہ سی آئی جی گروپس کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو بڑے پیمانے پر احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایجنسی کارکنوں کو تنخواہیں دی جا رہی ہیں جبکہ سی آئی جی گروپس کے کارکنوں کی تنخواہیں روک دی گئی ہیں جو سراسر ناانصافی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آنے والے تہواروں اُگادی اور رمضان کے پیش نظر تمام کارکنوں کو فوری طور پر تنخواہیں ادا کی جائیں۔ اس کے علاوہ آؤٹ سورسنگ کارکنوں کو یونیفارم، صابن، تیل اور حفاظتی سازوسامان فراہم کرنے، متوفی کارکنوں کے اہل خانہ کو ملازمت دینے میں رکاوٹیں دور کرنے، دیگر میونسپل کارپوریشنوں کی طرح زمروں کے لحاظ سے مناسب تنخواہیں ادا کرنے اور پی ایف و ای ایس آئی سے متعلق خامیوں کو درست کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔مزدور قائدین نے متنبہ کیا کہ اگر ان مسائل کو 14 دن کے اندر حل نہ کیا گیا تو وہ ہڑتال پر جانے پر مجبور ہوں گے اور اس سلسلہ میں ایڈیشنل کمشنر کو باضابطہ ہڑتال نوٹس بھی پیش کیا گیا۔ احتجاج کے دوران میونسپل کمشنر کی عدم موجودگی کے باعث جب کارکن ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کیلئے گئے تو دو خاتون کارکن مادھوی اور پاروتی بے ہوش ہو کر گر پڑیں، جنہیں ساتھی کارکنوں نے فوری طبی امداد فراہم کرتے ہوئے ایمبولینس کے ذریعہ سرکاری دواخانہ منتقل کیا۔ اس احتجاجی پروگرام میں میونسپل مزدور یونین قائدین بھوپتی راجیشور، کرن، گووردھن، روی، شیوکمار، بھانوچندر، مہیش، یادامّا، لکشمی، شیلجا، ٹی یو سی آئی کے ضلعی قائدین کرن اور لنگم، اے آئی ٹی یو سی کے ضلعی قائدین سمیت بڑی تعداد میں میونسپل کارکنوں اور ڈرائیوروں نے شرکت کی۔