پولنگ عملہ کو ہراساں کرنے کے الزام میں ڈی اروند اور چند کارکنان پر مقدمہ درج
نظام آباد ۔12فروری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) نظام آباد میونسپل کارپوریشن انتخابات کے موقع پر انتخابی بندوبست کے دوران سرکاری فرائض میں مبینہ مداخلت اور پولنگ عملہ کو ہراساں کرنے کے الزام میں نظام آبادرکن پارلیمنٹ دھرم پوری اروند اور ان کے چند کارکنوں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ ایس ایچ او رگوپتی کے مطابق ہری چرن مارواڑی اسکول نظام آباد میں قائم پولنگ بوتھ نمبر 287 پر گورم نارائنا کے علاوہI ٹاؤن پولیس اسٹیشن کے سلیم (ایچ سی 1019)، بی گووردھن (پی سی 2145) اور ماکلور پولیس اسٹیشن کے سرینواس (پی سی 2947) انتخابی ڈیوٹی انجام دے رہے تھے کہ دوپہر تقریباً 3 بجے رکن پارلیمنٹ اپنے 7 تا 8 حامیوں کے ساتھ وہاں پہنچے۔پولیس کے بیان کے مطابق مذکورہ افراد نے بوتھ کے مقام اور ایک امیدوار کو باہر بھیجنے کے حوالے سے سخت جملوں اور نازیبا الفاظ کا استعمال کیا اور پولیس عملہ کو دھمکاتے ہوئے اشتعال انگیز ریمارکس کئے۔ الزام ہے کہ ایک کارکن کو اندر جانے اور کسی بھی پولیس اہلکار کی مزاحمت کی صورت میں زبردستی باہر نکالنے کیلئے اکسانے کی کوشش کی گئی۔ پولیس کی جانب سے منع کرنے کے باوجود وہ افراد ویڈیو اور اسٹل کیمروں کے ساتھ بوتھ نمبر 287، 286 اور 285 میں داخل ہوئے اور پولنگ عملہ کے ساتھ بھی نامناسب برتاؤ کیا جس سے وہاں موجود عملہ میں خوف و ہراس کی فضاء پیدا ہوگئی۔Iٹائون ایس ایچ او رگھوپتی نے بتایا کہ سرکاری فرائض میں رکاوٹ ڈالنے ممنوعہ کیمروں کیساتھ پولنگ اسٹیشن میں داخل ہونے اور ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں کو دھمکانے کے الزامات پر بھارتیہ نیایا سنہتا کی دفعات 132، 223، 296(b) اور تلنگانہ میونسپلٹی ایکٹ 2019 کی دفعہ 226 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے اور معاملہ کی تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ انتخابی عمل کی شفافیت اور امن و امان میں خلل ڈالنے والوں کیخلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔واضح رہے کہ ڈی اروند نے پولنگ عملہ کو برقعہ پوش خواتین کا چہرہ دیکھے بغیر ووٹ ڈالنے کی اجازت نہ دینے کی بھی دھمکی دی اور فرضی ووٹرس قرار دیا تھا اور بوتھ پر زبردست ہنگامہ کیا تھا اور عہدیداروں میں خوف پیدا ہو گیا تھا۔