نظام آباد میونسپل کارپوریشن کے نتائج معلق برآمد ہونے کے امکانات؟

   

اصل مقابلہ کانگریس اور بی جے پی کے درمیان، گزشتہ انتخابی تاریخ دہرانا متوقع مگر پارٹی تبدیل ہوگی
حیدرآباد۔ 10 فروری (سیاست نیوز) نظام آباد میونسپل کارپوریشن 2026 کے انتخابات میں سیاسی مقابلہ انتہائی دلچسپ مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔ کارپوریشن کے 60 ڈیویژنس میں کانگریس اور بی جے پی کے درمیان سخت مقابلہ ہے جبکہ مجلس ایک بار پھر کلیدی رول کے طور پر ابھرتی دکھائی دے رہی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ کوئی بھی جماعت کے لئے میجک فیگر 31 تک پہنچنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ ایسی صورت میں کارپوریشن پر حکمرانی کا دارومدار اتحاد پر ہوگا۔ بی آر ایس جو ماضی میں دو مرتبہ میئر کے عہدے پر قبضہ جماچکی ہے۔ اس مرتبہ اس کا موقف کمزور نظر آرہا ہے۔ وہ سنگل ڈیجیٹ تک محدود دکھائی دے رہی ہے۔ پچھلے انتخابات میں بی جے پی سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری تھی، لیکن میئر کی نشست حاصل نہ کرسکی جس کے بعد مجلس کی جماعت سے بی آر ایس نے میئر اور ڈپٹی میئر کے عہدے حاصل کئے تھے۔ موجودہ حالات میں اسی طرز کی سیاسی صف بندی دوبارہ بنتی نظر آرہی ہے۔ تاہم اس مرتبہ بی آر ایس کی جگہ کانگریس لینے کی پوزیشن میں دکھائی دے رہی ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ رائے بھی پائی جاتی ہیکہ بی جے پی کو کانگریس کے مقابلے کچھ زیادہ نشستیں مل سکتی ہیں لیکن مجلس کی حمایت کانگریس کو میئر کی نشست دلانے میں فیصلہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔ مجلس نے گزشتہ انتخابات میں 16 نشستیں جیتی تھیں اور اس مرتبہ بھی اس کے آس پاس ہی نشستیں حاصل کرنے کے امکانات روشن بتائے جارہے ہیں۔ کانگریس جو پچھلے الیکشن میں صرف دو ڈیویژن تک محدود تھی اس بار 15 سے 20 نشستیں حاصل کرنے کے موقف میں دکھائی دے رہی ہے۔ بی جے پی کے حلقوں میں رکن پارلیمنٹ ڈی اروند کی جانب سے چند غیر مقامی امیدواروں کو ٹکٹ دینے پر پارٹی کے اندرونی حلقوں میں عدم اطمینان اور ناراضگی دیکھی جارہی ہے۔ تاہم پارٹی قائدین کا ماننا ہے کہ ہندوتوا اور وزیر اعظم نریندر مودی کے اثر کی وجہ سے اکثریتی نشستوں پر کامیابی ممکن ہے۔ اگر بی جے پی کو نظام آباد کارپوریشن پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا ہے تو اسے اپنی سابقہ گرفت برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ مزید چند ڈیویژنس پر کامیابی حاصل کرنا ضروری ہے۔ دوسری جانب کانگریس کے لئے مجموعی طور پر ماحول سازگار بتایا جارہا ہے۔ ضلع کاماریڈی کی کاماریڈی، یلاریڈی، بچکنڈہ اور بانسواڑہ بلدیات پر کانگریس کی جیت کے امکانات ہیں جبکہ ضلع نظام آباد کی بودھن اور آرمور بلدیات میں بھی کانگریس کے حق میں فضاء دکھائی دے رہی ہے۔ بھیمگل میونسپلٹی میں کانگریس اور بی آر ایس کے درمیان کانٹے کے مقابلے کی توقع ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی کے حالیہ دورہ نظام آباد اور صدر پردیش کانگریس کمیٹی مہیش کمار گوڑ کی جانب سے انتخابی چارج سنبھالنے کے بعد کانگریس کے گراف میں مزید اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ مجموعی طور پر نظام آباد میونسپل انتخابات پر ریاست کے عوام کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں۔ 2