نظام آباد میڈیکل کالج میں سنگین شدید جسمانی ریاگنگ کا واقعہ

   

نہ صرف طلبہ بلکہ عوام میں بھی تشویش کی لہر ، طالب علم کی ون ٹاؤن پولیس میں شکایت
نظام آباد۔ 24 اگست(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) نظام آباد سرکاری میڈیکل کالج میں ایک سنگین واقعہ پیش آیا جہاں سینئر طلبہ نے ایک ایم بی بی ایس کے طالب علم کو شدید جسمانی اذیت اور رَیاگنگ کا نشانہ بنایا۔ اس واقعہ نے نہ صرف طلبہ بلکہ عوام میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے متاثرہ طالب علم کے مطابق وہ گزشتہ کئی دنوں سے اپنے انٹرنل ڈیوٹی کے سلسلے میں سرکاری جنرل اسپتال میں خدمات انجام دے رہا تھا۔ تاہم پی جی کے سینئر طلبہ نے ڈیوٹی رجسٹر میں اسے غیر حاضر درج کیا۔ اس پر متاثرہ طالب علم نے ہفتہ کے دن اپنے سینئرز سے سوال کیا کہ باوجود ڈیوٹی انجام دینے کے اسے غیر حاضر کیوں دکھایا گیا۔ اس پر ناراض ہوکر تقریباً دس طلبہ نے اس پر حملہ کر دیا اور اجتماعی طور پر اسے زد و کوب کیا۔متاثرہ طالب علم کا نام راہول ہے جو حیدرآباد کے پٹن چیرو کا رہنے والا ہے اور یہ ایم بی بی ایس کے آخری سال کا طالب علم ہے۔ اس نے بتایا کہ اس دوران اسے بار بار ہراساں کیا گیا، سوالات کے ذریعے ذہنی دباؤ میں ڈالا گیا، موبائل فون چھین لیا گیا اور حتیٰ کہ اس کی خرابی صحت کے باوجود مارپیٹ بند نہیں کی گئی۔ اس نے بتایا کہ اسے یرقان (جاؤنڈس) بھی لاحق ہے لیکن اس کے باوجود سینئر طلبہ نے اس کی ایک نہ سنی اور اسے اذیت دی۔اطلاعات کے مطابق واقعہ منظرِ عام پر آنے سے بچانے کے لیے کالج انتظامیہ بھرپور کوشش کررہی ہے اور اندرونی طور پر سمجھوتہ کرانے کے لیے متاثرہ طالب علم پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ تاہم واقعہ میں ملوث سینئر طلبہ کے خلاف میڈیکو لیگل کیس درج کیے جانے کا عمل بھی زیر غور ہے۔ عوامی حلقے اس واقعہ پر سخت برہمی کا اظہار کررہے ہیں اور متاثرہ طالب علم کو انصاف دلانے اور قصورواروں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے کالج انتظامیہ نے اس بارے میں بتایا کہ حاضری کے مسئلے پر بحث و تکرار ہوئی تھی لیکن ریاگنگ نہیں ہوئی ہے ریاگنگ اگر ہوئی تو اس کی ایک علیحدہ کمیٹی ہے جبکہ متاثرہ طالب علم میں ون ٹاؤن میں شکایت کرنے پر ایس ایچ او مسٹر رگوپتی اس معاملے کی تحقیق کی جا رہی ہے اور تمام حقائق تک پہنچا جائے گا اور تحقیقات کے مطابق کاروائی کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔