بے خوف سفر کے علاوہ شادی اور دیگر تقاریب میں قواعد کی خلاف ورزی ، احتیاطی تدابیر نہایت ضروری
نظام آباد ۔کرونا وائرس کی وباء میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ سرکاری دواخانہ کے علاوہ خانگی دواخانوں میں بھی علاج کی سہولت فراہم کرنے کے باوجود بھی مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ نظام آباد ضلع میں اب تک تقریباً 2000افراد کرونا سے متاثر ہوئے ہیں اور 53 افراد کی موت واقع ہوئی ہے ۔ سب سے زیادہ کیسس نظام آباد میونسپل کارپوریشن کے علاوہ آرمور ، بودھن ، بھیمگل کے علاقو ں میں ظاہر ہورہے ہیں ۔ شہر کے سرکاری دواخانہ میں تقریباً200 بستروں کی سہولت دستیاب ہے اور چار ماہ سے کرونا کی وباء کا سلسلہ نظام آباد میں جاری ہے ۔ پہلا کیس نظام آباد میں 24 ؍ مارچ کے روز ظاہر ہوا تھا اور یہ آہستہ آہستہ ایک ماہ کے اندر 61 کیس ظاہر ہوئے تھے اور ماہ جولائی میں وائرس شدت اختیار کرچکا ہے ۔ وائرس کی زد میں ارکان اسمبلی باجی ریڈی گوردھن ، گنیش گپتا، جیون ریڈی اور ایم ایل سی وی جی گوڑ ، مئیر نیتو کرن ، سابق مئیر آکولہ سجاتا کے علاوہ کارپوریٹرس، ڈاکٹرس بھی مبتلا ہے ۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے حکومت نے سرکاری دواخانہ کو کوویڈ ہاسپٹل کی حیثیت سے قرار دیتے ہوئے نظام آباد میں مریضوں کا معائنہ کیلئے وائرالاوجی لیاب کا قیام عمل میں لایا ہے لیکن بڑھتے ہوئے مریضوں کی تعداد کے پیش نظر ضلع کے پرائمری ہیلت سنٹر ، اربن ہیلت سنٹروں میں ریاپیڈ ٹسٹ کو بھی انجام دیا جارہا ہے ۔
نظام آباد کے سرکاری دواخانہ کے علاوہ بودھن ، آرمور کے سرکاری دواخانہ میں بھی 30 بسترمریضوں کیلئے دستیاب رکھا گیا ہے اور ماکلور نرسنگ کالج میں ابتدائی طبی سہولتیں فراہم کرنے کیلئے آئسولیشن سنٹر قائم کیا گیا ہے ۔ ضلع میں تقریباً1400ایکٹیو کیس ہے اور اب تک 537 افراد ڈسچارج ہوئے ہیں اور 55 افراد کی موت واقع ہوئی ہے ۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے حکومت بہتر سے بہتر علاج فراہم کرنے کیلئے نظام آباد کے سرکار ی دواخانہ میں ریمیڈسور انجکشن بھی دستیاب رکھا ہے تاکہ مریضوں کو بہتر سے بہتر علاج فراہم ہوسکے ۔ نظام آباد کے سرکاری دواخانہ میں موجودہ بستروں میں آکسیجن کی سہولت کے علاوہ وینٹی لیٹر کی سہولت بھی دستیاب رکھی گئی ہے ۔ نظام آباد میں وباء کی شدت کی ایک وجہ بھی یہ ہے کہ نظام آباد ضلع کے سرحد پر مہاراشٹرا اور دوسری طرف کرناٹک واقع ہے اور ہر روز مہاراشٹرا کے سرحد سے ہوتے ہوئے ضلع میں آرہے ہیں جس کی وجہ سے نظام آباد اور بودھن میں سب سے زیادہ کیس ظاہر ہورہے ہیں ۔متحدہ ضلع کے بانسواڑہ ، بچکندہ ، پٹلم کے علاقہ میں بھی کرونا کا قہر جاری ہے اور دونوں اضلاع میں تقریباً4 ہزار افراد کرونا کی لپیٹ میں ہے اور تقریباًایک ہزار سے زائد ایکٹیو کیس دونوں اضلاع میں ہے جو نظام آباد کے علاوہ حیدرآباد گاندھی ہاسپٹل اور خانگی دواخانوں میں زیر علاج ہے ۔حکومت کی جانب سے دی جانے والی شکایتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے بے خوف گھومتے ہوئے قواعد کی خلاف ورزی کی جارہی ہے جبکہ احتیاطی تدابیر کو اختیار کرنے کی صورت میں وباء پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔ خاص طور سے شادی بیاہ و دیگر تقاریبات کو بھی انجام دینے سے گریز نہیں کیا جارہا ہے اور یہ بھی وباء کے پھیلنے کا سبب بن رہا ہے ۔