پتھراؤ میں کارکنوں کے بشمول پولیس ملازمین بھی زخمی، رکن پارلیمنٹ ڈی اروند کی مخالفتوں کا سلسلہ جاری، بھاری تعداد میں فورس تعینات
نظام آباد :رکن پارلیمنٹ نظام آباد مسٹر ڈی اروندکو ٹی آرایس کارکنوں کی مخالفتوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ آج اس وقت مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا جب رکن پارلیمنٹ اروند نظام آباد رورل اسمبلی حلقہ کے درپلی میں شیواجی کے جنم دن کے موقع پر شیواجی کے مجسمہ کی نقاب کشائی کیلئے بی جے پی کی جانب سے اروند کو مدعو کیا تھا لیکن درپلی منڈل کے ٹی آرایس کارکن اور کسان بڑے پیمانے پر درپلی میں جمع ہوگئے اور ان کیخلاف نعرہ بازی کرنا شروع کردی اور بی جے پی اور ٹی آرایس کارکن بڑے پیمانے پر شیواجی کے مجسمہ کے روبرو جمع ہوگئے اور دو گروپوں میں زبردست تنائو پیدا ہوگیا اور ایک دوسرے کے مخالفتوں میں نعرہ بازی کرنا شروع کردیا ۔ ٹی آرایس کے کارکن ہرا رومال پہن کر شیواجی کے مجسمہ کے پاس پہنچ کر اروند سے قبل اس کی نقاب کشائی کردی اور اروند کے خلاف نعرہ بازی کرنا شروع کی جس پر بی جے پی کارکنوں نے بھی یہاں پہنچ کر دوبارہ شیواجی کے مجسمہ کو ڈھانک دیا اور بی جے پی کارکنوں نے اروند کے بجائے خود ہی نقاب کشائی کردی دیکھتے ہی دیکھتے ہی حالات کشیدہ ہوگئے اور ایک دوسرے پر پتھرائو کرنا شروع کردیا جس میں درپلی سب انسپکٹر ومشی کرشنا ریڈی ، خاتون پولیس کانسٹیبل للیتا اور سرپنچ بال ریڈی زخمی ہونے پر سب انسپکٹر اور سرپنچ خاتون کانسٹیبل کے علاوہ زخمی بی جے پی کارکنوں کو نظام آباد دواخانہ منتقل کردیا ۔ حالات کو کشیدہ ہوتے ہوئے دیکھ کر پولیس نے بڑے پیمانے پر پولیس فورس کو طلب کردلیا اوردونوں گروپوں کو دور دور تک بھگادیا لیکن دونوں گروپ بھی بضد نظرآرہے تھے حالات کو دیکھتے ہوئے پولیس نے رکن پارلیمنٹ کو پروگرام میں شریک ہونے سے روک دیا اور درپلی پہنچنے سے قبل ہی اندلوائی پر روک دینے پر یہ موپال میں منعقدہ پروگرام میں شرکت کیلئے روانہ ہوگئے ۔ ٹی آرایس کارکنوں نے رکن پارلیمنٹ پر الزام عائد کیا کہ رکن پارلیمنٹ اروند ہلدی بورڈ کے قیام واضح طور پر بائونڈ پیپر تحریر لکھ کر دیا تھا جس پر انہوں نے انحراف کرلیا جس کی وجہ سے انہیں درپلی آنے نہیں دیا جارہا ہے جبکہ بی جے پی یا ٹی آرایس کی جانب سے زیادتی کی جارہی ہے خاموشی کے ساتھ منعقدہ پروگرام میں خلل پیدا کیا ۔ ٹی آرایس کی جانب سے اس بات کی شکایت کی جارہی ہے کہ درپلی ، نظام آباد رورل اسمبلی حلقہ میں شامل ہے اور رورل اسمبلی حلقہ سے رکن اسمبلی باجی ریڈی گوردھن نمائندگی کررہے ہیں اور شیواجی کے پروگرام کو سرکاری طور پر منایا گیا تو رکن اسمبلی کو بھی مدعو کرنا لازمی ہے لیکن رکن اسمبلی کے اطلاع کو بغیر ہی پروگرام کو قطعیت دی گئی جبکہ مجسمہ کی تنصیب کیلئے ٹی آرایس سے تعلق رکھنے والے افراد بھی تعاون کیا ہے ۔ لیکن ٹی آرایس کے رکن اسمبلی کو مدعو نہ کرنا سراسر غلط ہے ۔ نظام آباد رکن پارلیمنٹ کو مسلسل ٹی آرایس کارکنوں کی مخالفتوں کا سامنا کرناپڑرہا ہے اور چند دن قبل بھی آرمور اسمبلی حلقہ میں انہیں مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تو اس سے قبل اندلوائی میں بھی ترقیاتی کاموں کی انجام دہی کے موقع پر ٹی آرایس کارکنوں نے مخالفت میں مظاہرہ کیا تھا اور اب درپلی میں دیہات میں آنے بھی نہیں دیا مسلسل مخالفتوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے پولیس بڑے پیمانے پر پیکٹس تعینا ت کرتے ہوئے اے سی پی نظام آباد وینکٹیشورلو حالات کا جائزہ لے رہے ہیں ۔