نظام آباد میں ہلدی بورڈ کے قیام پر لوک سبھا میں اتم کمار ریڈی کا سوال

   

حکومت کا غیر واضح موقف، کسانوں کے ساتھ ناانصافی پر کانگریس رکن کا احتجاج

حیدرآباد۔ صدر پردیش کانگریس اور رکن پارلیمنٹ اتم کمار ریڈی نے نظام آباد ضلع میں علحدہ ہلدی بورڈ کے قیام کے وعدہ کی تکمیل میں ناکامی پر بی جے پی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ لوک سبھا میں آج وقفہ سوالات کے دوران اتم کمار ریڈی نے مرکزی وزیر زراعت کی جانب سے دیئے گئے جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ مرکز سے سوال کیا گیا تھا کہ آیا نظام آباد میں ہلدی بورڈ قائم کیا جائے گا۔ مرکزی وزیر نے سوال کا جواب دینے کے بجائے اسپائس بورڈ کی تشکیل کی بات کہی جس کے تحت ہلدی کو شامل کیا جائے گا۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ ہلدی کے کسان کئی برسوں سے علحدہ بورڈ کیلئے جدوجہد کررہے ہیں۔ مرکزی وزیر راجناتھ سنگھ، پرکاش جاوڈیکر اور رام مادھو نے لوک سبھا انتخابات میں مہم کے دوران کسانوں سے ہلدی بورڈ کے قیام کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی 80 فیصد ہلدی ہندوستان میں پیدا ہوتی ہے اور اس میں سے نصف نظام آباد سے تعلق رکھتی ہے۔ مرکز نے ہلدی بورڈ کے قیام کے وعدہ سے انحراف کرلیا ہے۔ اتم کمار ریڈی نے سوال کیا کہ حکومت کو ہلدی بورڈ کے قیام میں کیا رکاوٹ ہے جبکہ سابق حکومت نے اراضی الاٹ کردی تھی۔ بورڈ کے قیام سے حکومت پر کوئی مالی بوجھ عائد نہیں ہوگا اور کسانوں کو اقل ترین امدادی قیمت حاصل ہوگی۔ اتم کمار ریڈی کے سوالات پر مرکزی مملکتی وزیر زراعت پرشوتم روپالے نے کہاکہ اسپائس بورڈ ہلدی سمیت تقریباً 15 مصالحوں سے نمٹ رہا ہے۔ نظام آباد میں اسپائس بورڈکا ایکسٹنشن آفس قائم کیا گیا جاچکا ہے جو 20 فروری سے کام کا آغاز کرچکا ہے۔ وزیر کے جواب سے غیر مطمئن اتم کمار ریڈی نے ہلدی بورڈ کے بارے میں جواب کا مطالبہ کیا۔ تاہم مرکزی وزیر نے اس بارے میں کوئی واضح جواب نہیں دیا اور کہا کہ علحدہ ہلدی بورڈ کے قیام کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اتم کمار ریڈی اور دیگر کانگریس ارکان نے احتجاج کیا جس پر لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے بی جے پی کے بی این باچے گوڑا کو ضمنی سوال کی اجازت دی جس پر انہوں نے قومی سطح پر ہلدی بورڈ کے قیام کا مطالبہ کیا۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ ہلدی بورڈ کے قیام کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔