نظام آباد: سی آئی ٹی یو کی جانب سے آشا ورکرس ، کمیونٹی ہیلت ورکرس ، والینٹرس کے مطالبات کی یکسوئی کا مطالبہ کرتے ہوئے کلکٹریٹ پر دھرنا دیا گیا ۔ سی آئی ٹی یو ضلع سکریٹری نورجہاں کی قیادت میں آشا ورکرس نے بڑے پیمانے پر دھرنا میں حصہ لیا اس موقع پر نورجہاں نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر مسٹر چندر شیکھر رائو نے اسمبلی میں واضح طور پر تیقن دیا تھا کہ آشا ورکرس کے مسائل کو حل کیا جائیگا اور 11 ویں پی آر سی کے اعلان کی منظوری میں آشاو رکرس کو فراموش کردیا گیا انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے 11؍ جون کے روز 11 ویں پی آر سی کا اعلان کرتے ہوئے 431 صفحات پر مشتمل جی او جاری کیا ۔ لیکن اس میں کوئی کہیں پر بھی آشا ورکرس کا ذکر نہیں ہے ۔22؍ مارچ کے روز اسمبلی میں پی آر سی کے تحت آشا ورکرس کو بھی فائدہ پہنچانے کا اعلان کیا تھا لیکن اس میں کہیں پر بھی آشا ورکرس کا ذکرنہیں کیا گیا ۔ انہوں نے فوری آشا ورکرس سے مطالبات کی یکسوئی کا مطالبہ کیا انہوں نے تفصیلی یادداشت ضلع کلکٹر کے ذریعہ حکومت کو روانہ کیا ۔