نظام آباد کے کانگریس پروگرام میں اردو میڈیا نظر انداز

   

Ferty9 Clinic

نظام آباد : کانگریس پارٹی کو بہت مشکل سے ابھرنے کا موقع ہاتھ آ یا ہے پردیش کانگریس کے صدر ریونت ریڈی ریاست گیر سطح پر کانگریس پارٹی کو ابھارنے کیلئے جدوجہد میں مصروف ہے اور اپنے ٹیم کو بھی کانگریس کو مستحکم کرنے کیلئے بار بار اپیل کررہے ہیں اور مسلمانوں کو قریب کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر جدوجہد کررہے ہیں ۔ پردیش کانگریس کے صدر منتخب ہونے کے بعد انہوں نے حیدرآباد میں اقلیتی قائدین کے اجلاس میں واضح طور پر مسلمانوں کو ساتھ لیکر چلنے کا اعلان کیا تھا اور اپنے حلف برداری تقریب میں اس بات کا ثبوت پیش کرتے ہوئے درگاہ یوسفین پر حاضری دیتے ہوئے دونوں طبقات کو دو آنکھ قرار دیا ۔ نظام آباد میں مسلمانوں کی کثیر تعداد ہے اور یہاں کے اقلیتی قائدین پردیش کانگریس صدر کی اپیل کو نظر انداز کرتے ہوئے اُردو اور اُردو میڈیا کو نظر انداز کردیا۔ کیا اُردو میڈیا کو نظر انداز کرکے کانگریس ابھر سکے گی کیونکہ اس کے سامنے ٹی آرایس اور مجلس اتحاد المسلمین جیسی مضبوط موقف رکھنے والی سیاسی جماعتیں ہے کانگریس پارٹی کے اقلیتی قائدین نے 28؍ جولائی کو منعقد ہ خیر مقدم ریالی کے موقع پر سڑکوں پر لگائے جانے والے چیپ فلکس کلچر پر ہزاروں روپئے خرچ کئے لیکن ریاستی اور مقامی اخبارات کو اشتہارات دینا گوارہ نہیں کیا کانگریس کے یہی اقلیتی قائدین اپنے مطالبات کیلئے اخبارات میں بیانات شائع کرتے ہیں لیکن بڑے پروگرام کے موقع پر اُردو اخبارات اور اُردو چینل کو نظر انداز کررہے ہیں جو ان کیلئے بہت مہنگا ثابت ہوسکتا ہے ۔ کانگریس پہلے ہی عوام سے دور ہورہی ہے اُردو میڈیا کو نظر انداز کرنے کی حماقت کرتے ہوئے اپنے ہی پیر پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ثابت ہوسکتا ہے ۔ اقلیتی قائدین کانگریس جو خود کو تجربہ کار ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیا انہیں اتنا بھی تجربہ نہیں کہ اُردو میڈیا کو نظر انداز کرکے عوام کے دل میں جگہ بنانا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہوجائیگا۔ سڑکوں پر اور چوراہوں پر لگائے جانے والے فلکس سے عوام کی تائید حاصل نہیں کی جاسکتی بلکہ یہ صرف شعبدہ بازی مانا جاتا ہے فلکس لگانے سے عوام کی ذہن سازی نہیں ہوتی بلکہ اخبارات اور چینل کے ذریعہ عوا م کی ذہن سازی کی جاسکتی ہے میڈیا کا ساتھ لیکر اقتدار پر قابض ہونے کی مثال بی جے پی حکومت سے لی جاسکتی ہے جس طرح قومی میڈیا نے بی جے پی کو اقتدار تک پہنچایا ہے ہر مقام کا میڈیا وہی کام انجام دے سکتا ہے ۔ برسراقتدار اور اس کی حلیف جماعتیں اسکیمات کے ذریعہ عوام کی قریب ہوتی ہے لیکن اپوزیشن جماعتوں کو ابھرنے کیلئے تمام ذرائع کو اختیار کرنا ضروری ہوتا ہے بالخصوص طاقتور میڈیا کی تائید و حمایت ہونا اپوزیشن کیلئے لازمی ہوتا ہے لیکن نظام آباد کے اقلیتی قائدین کانگریس چیپ فلکس کلچر کے ذریعہ عوام کی تائید و حمایت حاصل کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں ۔ اقلیتی قائدین کانگریس کو اچھی طرح جان لینا چاہئے کہ اُردو میڈیا کے بغیر نہ وہ کارپوریٹر بن سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی منتخبہ عہدہ انہیں حاصل ہوسکتا ہے ۔ اُردو میڈیا کو نظر انداز کرنے ساری محنت رائیگا ں چلی جائے گی ۔ اقلیتی قائدین کانگریس کی آج کی حماقت پر ان کا تعاقب کیا جائیگا۔