نظام آباد میں بی جے پی کی کامیابی پر انسپکٹر آصف نگر کی مبارکباد

,

   

سرکاری ٹوئیٹر پر جاری مسیج وائرل، فرقہ پرست ذہنیت بے نقاب

حیدرآباد ۔28جنوری ( سیاست نیوز) ایسا لگتا ہے کہ تلنگانہ پولیس کے بعض عہدیدار اپنی فرقہ پرست ذہنیت کو کھلے عام ظاہر کرنے سے گریز نہیں کررہے ہیں اور سیاسی پارٹیوں کی کھل کر ستائش کررہے ہیں ۔ ان دنوں آصف نگر پولیس اسٹیشن کے اسٹیشن ہاؤز آفیسر کے رویندر سوشل میڈیا پر سخت تنقید کا نشانہ بنے ہیں چونکہ انہوں نے اپنے سرکاری ٹوئیٹر اکاؤنٹ کے ذریعہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور دیگر سیاسی قائدین کو مبارکباد کے پھول باندھتے ہوئے اور ان کے اقدامات کی ستائش کرتے نہیں تھک رہے ہیں ۔ سوشل میڈیا پر ایس ایچ او آصف نگر کا ایک ٹوئیٹر مسیج وائرل ہوا ہے جس میں نظام آباد کے بی جے پی رکن پارلیمنٹ دھرماپوری اروند کی نظام آباد کی عوام کو بی جے پی پارٹی کی بلدی انتخابات میں شاندار کامیابی پر اظہار تشکر کیا جس پر انسپکٹر آصف نگر نے انہیں اپنے سرکاری ٹوئیٹر اکاؤنٹ کے ذریعہ مبارکباد پیش کی ۔ اس مسیج کے اسکرین شارٹس سوشل میڈیا پر آگ کی طرح پھیل گئے اور پولیس عہدیدار تنقید کا نشانہ بن گئے ۔ ٹوئیٹر استعمال کرنے والے افراد آصف نگر پولیس اسٹیشن ٹوئیٹر اکاؤنٹ کا مزید پوسٹ مارٹم کیا جس میں حیرت انگیز انکشافات ہوئے ہیں ۔ باور کیا جاتا ہے کہ سرکاری ٹوئیٹر اکاؤنٹ ایس ایچ او آصف نگر نے مبینہ طور پر وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی پارٹی کی سراہنا کرتے ہوئے دکھایا گیا اور سابق مرکزی وزیر چدمبرم اور گجرات کے ہاردک پٹیل کے خلاف ٹوئٹس کو بھی لائیک کیا گیا ۔ ایس ایچ او آصف نگر کے ٹوئیٹر اکاؤنٹ کے پوسٹ مارٹم کے بعد اُن کے غیرجانبدارانہ رویہ پر کئی سوالیہ نشان کھڑے کئے جارہے ہیں اور عوام نے یہ الزام عائد کیا کہ دو دن قبل مہدی پٹنم کریسٹل گارڈن میں بھیم آرمی کے سربراہ چندر شیکھر آزاد کے پروگرام کو پہنچنے والے افراد کے خلاف مبینہ طور پر بدسلوکی بھی کی گئی ۔ مجلس بچاؤ تحریک کے ترجمان امجد اللہ خان خالد نے کہا کہ ایس ایچ او آصف نگر کی بی جے پی پارٹی کی محبت ان کی شخصی اکاؤنٹ کے ذریعہ ظاہر کی جائے کیونکہ کسی بھی سیاسی پارٹی کی ستائش ان کی ڈیوٹی میں شامل نہیں ہیں ۔انہوں نے کہاکہ شہریت قانون اور این آر سی کے خلاف شہر حیدرآباد میں شدت سے کئے جانے والے احتجاج کے نتیجہ میں حیدرآباد پولیس کے کئی عہدیدار اپنا فرقہ وارانہ رنگ دکھارہے ہیں ۔ انہوں نے پولیس کمشنر انجنی کمار سے درخواست کی ہے کہ انسپکٹر کے اس جانبدارانہ رویہ کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے اور ان کا فوری تبادلہ بھی کیا جائے ۔