چیف منسٹر کے دورہ کے موقع پر کوئی تذکرہ یا نمائندگی نہیں‘ ٹی آر ایس مسلم قائدین کی عدم دلچسپی لمحہ فکر
نظام آباد۔ 5؍ستمبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)۔ نظام آباد کے قدیم کلکٹریٹ کے احاطہ میں1960 ء کے دو ر میں کلکٹریٹ کی مسجد واقع تھی اور یہاں پر کلکٹریٹ کے ملازمین نماز ادا کرتے تھے اور آہستہ آہستہ مسجد کا نام و نشان مٹادیا گیا۔ سال 2011-12 میں یہ مسئلہ چھڑا تو سروے کیا گیا آرڈی او اور ایم آر او کی موجودگی میں سروے کیا گیا اور واضح طور پر 230 مربع گز اراضی پر محیط مسجد کا ذکر کرتے ہوئے وقف گزٹ میںبھی اس بات کا ریکارڈ ہے۔ قدیم کلکٹریٹ ، جدید کلکٹریٹ عمارت میں منتقل کے بعد مسجد کا موقف بحال کرنے کیلئے گذشتہ ایک ہفتہ سے سابق صدر وقف کمیٹی ماجد خان ، صدر ضلع جمعیت العلماء حافظ لئیق خان کی جانب سے مطالبہ کرتے ہوئے اس مسئلہ کو تازہ کیا گیا، لیکن یہ مسئلہ صرف اخبارات کی سرخیوں تک محدود ہوگیا اوریہ مسئلہ پر حکومتی سطح پر کوئی نمائندگی نہیں کی گئی۔ برسراقتدار جماعت کے مسلم قائدین کی جانب سے مسئلہ کے بارے میں واقفیت رکھنے کے باوجود بھی چیف منسٹر کے دورہ کے موقع پر نمائندگی کرنا مناسب نہیں سمجھا جس کی وجہ سے آج چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو نے جدید کلکٹریٹ کی عمارت کی تعمیر کے بعد گری راج کالج کے میدان میں جلسہ سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ قدیم کلکٹریٹ کے علاقہ میں اندور کلا بھارتی آڈیٹوریم تعمیر کیلئے اعلان کرتے ہوئے اس کیلئے فنڈ بھی منظور کرنے کا ارادہ ظاہر کرتے ہوئے ضلع کے وزیر مسٹر پرشانت ریڈی کو اس بات کی ذمہ داری دی ہے اس سے یہ صاف ظاہر ہورہا ہے کہ نہ ٹی آرایس کے مسلم قائدین کو مسجد سے دلچسپی ہے اور نہ ہی حکومت کو مسجد کی اراضی کو واپس دینے کا ارادہ ہے۔