نظام آباد کی ترقی میں اُردو صحافت کا کلیدی رول: رکن اسمبلی

   

اُردو صحافیوں کیلئے سہولتیں فراہم کرنے حکومت سے خواہش، ریڈکو چیرمین ایس اے علیم اور دیگر کا خطاب

نظام آباد۔ اُردو صحافت کے 200 سال کی تکمیل کے موقع پر اُردو پریس کلب نظام آباد کی جانب سے منعقدہ تقریب سے مخاطب کرتے ہوئے رکن اسمبلی نظام آباد اربن بیگالہ گنیش گپتا نے اُردو صحافیوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اُردو زبان کی بقاء اور اُردو کے فروغ کیلئے صحافیوں کی خدمات ناقابل فراموش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے اُردو کے فروغ کیلئے اقلیتی اقامتی مدارس کا قیام عمل میں لاتے ہوئے اردو تعلیم کو فروغ دیا جارہا ہے۔ مسٹر گنیش گپتا نے اقلیتی علاقوں کی ترقی کیلئے ہر ممکن اقدامات کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ مسٹر گنیش گپتا نے کہا کہ صحافت کی یہ ذمہ داری ہے کہ سماج میں ہونے والے کاموں سے حکومتی سطح پر واقف کروائیں بالخصوص شہر نظام آباد میں غریبوں کی ضررتوں کی تکمیل کیلئے حکومت کی جانب سے کئی اقدامات کئے جارہے ہیں لیکن بعض اوقات میں نا انصافیاں بھی ہوتی ہے اس بارے میں حکومت کے ذمہ دار نا واقف ہوتے ہیں ایسے وقت صحافت ان چیزوں سے بہتر واقف رہتی ہے اور صحافتی ذمہ داری کامیاب طور پر انجام دیتی ہے اور غریبوں کے ساتھ انصاف کیا جاتا ہے مسٹر گنیش گپتا نے کہا کہ 2014 ء سے لیکر آج تک بھی نظام آباد کی ترقی میں اُردو صحافت کلیدی رول ادا کیا ہے اور آئندہ بھی جاری رہیگا۔ نہ صرف ترقی بلکہ ان کی سیاسی کیرئیر میں بھی اُردو صحافت کا اہم دخل رہا اقلیتی علاقوں میں جو کام انجام دئیے جارہے ہیں اس میں اُردو صحافت کے زرین مشورہ شامل ہے۔ مسٹر گنیش گپتا نے صحافیوں کی فلاح بہبودی کیلئے اپنی جانب سے تعاون ادا کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ اس موقع پر ریڈ کو چیرمین ایس اے علیم نے اُردو صحافت کے 200 سالہ تکمیل کے موقع پر اُردو پریس کلب نظام آباد کی جانب سے تقریب کے انعقاد پر ذمہ داران کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اُردو صحافی اپنی ذمہ داریوں کو انجام دینے میں بہترین کام کررہے ہیں۔ کم وسائل میں بھی اُردو کے اخبارات کو شائع کرتے ہوئے اُردو زبان کی بقاء کیلئے ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے۔ حکومتوں کی جانب سے تعاون حاصل نہ ہونے کے باوجود بھی اخبارات اپنی ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹ رہے ہیں انہوں نے رکن اسمبلی سے خواہش کی اُردو اخبارات کو اشتہارات و دیگر سہولتیں فراہم کریں۔ اس موقع پر مئیر ڈی نیتو کرن نے کہا کہ اُردو اخبارات 200 سال سے شائع ہورہے ہیں اور آئندہ بھی شائع ہوں گے۔ نظام آباد شہر میں اُردو اخبارات اپنی ایک منفرد شناخت رکھتے ہیں سینئر کارپوریٹر ایم اے قدوس نے اُردو صحافت کے200 سالہ تکمیل پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اُردو کی زبان کی بقاء کیلئے اُردو صحافیوں کی جانب سے کئے جانے والی کوششوں کو حکومتوں کا تعاون ناگزیر ہے۔ اسٹیٹ سکریٹری ٹی آرایس پارٹی طار ق انصاری نے صحافیوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اُردو صحافیوں کے جشن میں رکن اسمبلی نظام آباد اربن بیگالہ کی شرکت پر مسرت کا اظہار کیا۔ اس جلسہ کی کارروائی صدر اُردو پریس کلب محمد خالد خان نے چلائی۔ اس موقع پر سینئر صحافی محمد جاوید علی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 200 سال قبل اُردو اخبار کا قیام عمل میں آیا تھا اور ہندوستان کی آزادی کی تحریک سے لیکر تلنگانہ تحریک تک اُردو اخبارات ذمہ داری کے ساتھ اپنے کام کو انجام دیا۔ اس موقع پر اُردو سے وابستہ صحافی محمد جاوید علی سیاست ، اختر امتیاز سینئر جرنلسٹ ، رفیق شاہی ایڈیٹر ہفتہ وار للکار ، یوسف الدین خان ایڈیٹر نیوز اینڈ ویوز میڈیا ، محمد انور خان ایڈیٹر ہلچل تلنگانہ کی صحافتی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں ’’کارنامہ حیات ایوارڈ ‘‘ سے نوازا گیا۔ اس موقع پر چندرم سابق رکن بلدیہ ، اختر احمد نوڈا ڈائریکٹر ، شیخ صادق ، ایم اے باری ٹی آرایس ٹائون آرگنائزنگ سکریٹری ، شیخ رحیم چھوٹو ، محمد ذاکر سکریٹری ، نائب صدور سید قیصر، راشید ، محمد اویس خان ، محمد امیر الدین خازن کے علاوہ دیگر عہدیداران و قائدین بھی موجود تھے۔