بعض لوگ 1945-1936 کے درمیان کے برتھ سرٹیفیکٹس کے لیے درخواستیں دے رہے ہیں اور افسران کو تعجب ہے کہ 86 سال کے شخص کو اب برتھ سرٹیفیکٹ کی کیا ضرورت ہے ؟ اور بلدی افسران نظام دور حکومت کے بلدی ریکارڈس کی چھان بین کرنے پر مجبور ہورہے ہیں اور ان ریکارڈس کی تصدیق و تردید کرنے کے لیے افسران کو بڑے مسائل پیش آرہے ہیں کیوں کہ نظام دور حکومت کے ریکارڈس بزبان اردو میں ہیں اور 99 فیصد درخواست گذاروں کی تفصیلات ان ریکارڈس میں موجود نہیں ہیں جس کی وجہ سے ان درخواستوں کی تنقیح کے لیے درخواستیں آر ڈی اوز اور پولیس کو روانہ کی جارہی ہیں ۔ درخواست گذار اگر تعلیم یافتہ ہو تو موجود ثبوتوں کی بنیاد پر سرٹیفیکٹس جاری کئے جاتے ہیں یا تعلیمی ثبوت نہ ہونے پر درخواست گذار کی جانب سے فراہم کردہ ثبوتوں کی بنیاد پر سرٹیفیکٹس جاری کئے جاتے ہیں ۔۔
نظام دور حکومت کے برتھ سرٹیفیکٹس کیلئے درخواستیں
وقف بورڈ میں بھی درخواستوں کا انبار
وقف بورڈ میں بھی میاریج سرٹیفیکٹس کے لیے بڑی تعداد میں درخواستیں داخل کی جارہی ہیں ۔ ماضی میں روزانہ 150-100 درخواستیں موصول ہوتی تھیں مگر اب ماہ جنوری سے مسلسل روزانہ 500-450 درخواستیں داخل کی جارہی ہیں کیوں کہ میاریج سرٹیفیکٹس میں شادی کی تاریخ ، سال اور قومیت درج ہوتی ہے اور اچانک درخواستوں میں اضافہ کی وجہ سے وقف بورڈ افسران بھی حیران ہیں ۔۔