نظام دکن ‘سیکولرازم کے علمبرداراورہندوستانی معیشت کے مضبوط ستون تھے

   

Ferty9 Clinic

رکن پارلیمنٹ نظام آبادڈی اروندکی جانب سے فرقہ وارانہ ماحول بنانے کی کوشش پرسیکولرجماعتوں کی خاموشی‘ سنگین نتائج کا خطرہ
نظام آباد:10؍ جنوری (محمدجاویدعلی کی رپورٹ)نظام آباد بلدی انتخابات کے پیش نظر شہر میں سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے۔ پارلیمانی اور اسمبلی حلقوں میں کامیابی کے بعد بی جے پی نے اب میئر کے عہدہ کے حصول کے لیے ماحول کو دانستہ طور پر فرقہ وارانہ رخ دینے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ ہندو ووٹ کو متحد کرنے کے نام پر ہندو مسلم کشیدگی پیدا کرنے کی منظم حکمتِ عملی اپنائی جا رہی ہے، تاکہ اس کا براہِ راست فائدہ بی جے پی کو حاصل ہو۔ یہ صورتحال سیکولر جماعتوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے، کیونکہ اگر انہوں نے بروقت آواز بلند نہ کی تو آنے والے بلدی انتخابات میں سب سے زیادہ نقصان ان ہی جماعتوں کو اٹھانا پڑے گا۔ نئی نسل تاریخ سے نابلد ہے اور اسی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بی جے پی منصوبہ بند طریقے سے آگے بڑھ رہی ہے۔فہرستِ رائے دہندگان میں اعتراضات کے حصول کے لیے میونسپل کمشنر کی جانب سے طلب کردہ اجلاس کے دوران بی جے پی نے اچانک ’’اندور‘‘ کے نام پر بحث چھیڑ دی، جس پر مجلس اتحاد المسلمین نے اعتراض کیا اور اجلاس میں افرا تفری کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ حالانکہ اس اجلاس کا مقصد محض نمائندگی کی بنیاد پر اعتراضات حاصل کرنا تھا۔ بعد ازاں رکنِ پارلیمنٹ نظام آباد ڈی اروند نے ایک صحافتی کانفرنس منعقد کرتے ہوئے نہ صرف نظام آباد کے نام کی تبدیلی کی بات کی بلکہ نظامِ دکن کے خلاف ناشائستہ اور غیر ذمہ دارانہ الفاظ بھی استعمال کیے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں کہ ڈی اروند ہمیشہ پولرائزیشن کی سیاست کے ذریعے کامیابی حاصل کرتے رہے ہیں اور اس مرتبہ بھی وہ اسی حکمتِ عملی کے ذریعہ میونسپل کارپوریشن پر قبضہ جمانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حالانکہ تاریخ شاہد ہے کہ نظامِ دکن میر عثمان علی خان ہندوستانی معیشت کے مضبوط ستون تھے، جنہوں نے ہندوستانی حکومت کو پانچ ہزار ٹن سونا بطور عطیہ دیا۔اس کے علاوہ بنارس یونیورسٹی کے لیے 1939 میں ایک لاکھ روپے کا عطیہ دیا تھا۔ نظامِ دکن حقیقی معنوں میں سیکولرزم کے علمبردار تھے جو ہندو اور مسلمان دونوں کو دو آنکھوں کی طرح برابر سمجھتے تھے۔ جہاں مندر تعمیر کروایا وہیں مسجد کی تعمیر بھی عمل میں آئی جس کی مثال بودھن سمیت ریاست کے کئی علاقوں میں آج بھی موجود ہے۔نظام کے دورِ حکومت میں متعدد ہندو جاگیردار بھی بااثر عہدوں پر فائز رہے جن میں سرنا پلی اور سندھنا پلی کی مثالیں نمایاں ہیں جہاں کی رانی ہندو تھیں۔ نظامِ دکن نے نظام آباد کو عالمی سطح پر شناخت دلانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کے عہد میں 1905 میں سکندرآباد ریلوے لائن بچھائی گئی اور 1923 سے 1931 کے درمیان نظام ساگر پراجیکٹ تعمیر ہوا، جس کے ذریعے متحدہ ضلع نظام آباد اور موجودہ کاماریڈی ضلع کے ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی کو آبپاشی کی سہولت حاصل ہوئی۔اسی دور میں 1921 میں نظام شوگر فیکٹری قائم کی گئی، جو تقریباً 15 ہزار ایکڑ اراضی پر مشتمل تھی اور اس وقت ایشیاء کی سب سے بڑی شوگر فیکٹری سمجھی جاتی تھی۔ یہ فیکٹری اپنے دور میں روزگار کا ایک عظیم ذریعہ تھی۔ اس کی ایک منفرد خصوصیت یہ تھی کہ کسانوں کے کھیتوں تک گنے کی نقل و حمل کے لیے ریلوے لائن بچھائی گئی تھی اور ٹرین کے ذریعہ گنا فیکٹری تک پہنچایا جاتا تھا۔ نظام شوگر فیکٹری کی اراضیات بودھن، ایڈپلی، کوٹگیر اور رنجل منڈلوں میں پھیلی ہوئی تھیں۔ اس کے علاوہ نظامِ دکن کے دور میں ریاست کے تقریباً 15 مقامات پر شوگر فیکٹریاں قائم کی گئیں، جن میں کورٹلہ، میٹ پلی اور ظہیرآباد شامل ہیں۔یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ ڈی اروند نے پہلی مرتبہ انتخابات میں حصہ لینے سے قبل یہاں سے پدیاترا شروع کی تھی اور کامیابی کے بعد بودھن اور کورٹلہ شوگر فیکٹریوں کی کشادگی کا اعلان کیا تھا، مگر آج تک اس وعدے پر عمل نہیں ہو سکا۔ نظام آباد میں پہلا یونانی دواخانہ بھی نظام کے دورِ حکومت میں قائم ہوا، جو عوامی فلاح کا ایک اور روشن باب ہے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ خود ڈی اروند کے والد نظامِ دکن کو احترام کے ساتھ ’’نظام سرکار‘‘ کہا کرتے تھے اور ہمیشہ ہندو مسلم اتحاد کے حامی رہے۔ مسلمانوں کی تائید کی بدولت ہی وہ مسلسل کامیاب ہوتے رہے۔ اگرچہ بعد میں سیاسی اختلافات کے باعث کانگریس سے علیحدگی اختیار کرنا پڑی، مگر انتقال سے قبل گاندھی بھون جا کر دوبارہ کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔ ڈی اروند نے بھی اپنے والد کی سیاسی وراثت کے سہارے پہلی مرتبہ کامیابی حاصل کی، لیکن اقتدار کی خاطر بی جے پی سے وابستگی اختیار کر لی۔نظام آباد کے ماحول کو فرقہ وارانہ بنانے کی جو کوششیں بی جے پی کی جانب سے کی جا رہی ہیں، وہ تمام سیکولر جماعتوں خصوصاً مسلم قائدین کے لیے سخت انتباہ ہیں۔ اگر اس معاملے پر خاموشی اختیار کی گئی تو آنے والے دنوں میں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ حیدرآباد کے بعد سب سے بڑی مسلم آبادی نظام آباد میں ہی موجود ہے۔ بہتر ہوگا کہ ڈی اروند فرقہ پرستی کے بجائے کارکردگی اور ترقی کے نام پر ووٹ طلب کریں اور نظام آباد کے ہندو مسلم اتحاد کو برقرار رکھنے میں مثبت کردار ادا کریں۔