نظام کی جائیدادوں کا مجلس صاحبزادگان سوسائٹی کی دعویداری کو عدالت نے مسترد کردیا

   

حیدرآباد۔ 15 مارچ (سیاست نیوز) حیدرآباد کی ایک مقامی عدالت نے آصف جاہی حکمرانوں کے قانونی وارث ہونے کا دعویٰ کرنے والے 4500 افراد کی درخواست کو مسترد کردیا جنہوں نے آصف سابع نواب میر عثمان علی خاں کی خانگی جائیدادوں میں مداخلت کی اپیل کی جو افراد خاندان میں تقسیم سے متعلق تنازعہ کا شکار ہیں۔ مجلس صاحبزادگان سوسائٹی کی جانب سے درخواست داخل کی گئی جس میں فلک نماں پیالس، کنگ کوٹھی، چاؤ محلہ پیالیس، پرانی حویلی اور ٹاملناڈو میں واقع جائیدادوں کی تقسیم میں حصہ داری کی درخواست کی گئی۔ ایڈیشنل چیف جج حیدرآباد نے مجلس صاحبزادگان سوسائٹی کی درخواست کو مسترد کردیا جو مقدمہ میں فریق بنائے جانے کے لئے داخل کی گئی تھی۔ آصف سابع کے پوترے نواب نجف علی خاں نے جائیدادوں کی تقسیم کے لئے درخواست دائر کی ہے۔ صاحبزادگان سوسائٹی نے اس مقدمہ میں فریق بنانے کی درخواست کی تھی۔ سوسائٹی کے صدر صاحبزادہ میر مجتبیٰ علی خاں نے عدالت کو بتایا کہ نواب میر عثمان علی خاں کی سرپرستی میں 1932 میں سوسائٹی کا قیام عمل میں آیا تاکہ آصف جاہی حکمرانوں کے افراد خاندان کی بھلائی کے اقدامات کئے جاسکیں۔ سوسائٹی میں صاحبزادہ اور صاحبزادیاں ہیں۔ درخواست گذار نے نظام کے جواہرات سے متعلق 1995 کے عدالتی فیصلے کا حوالہ دیا جس میں انہیں 2 کروڑ کی حصہ داری دی گئی تھی۔ فریقین کی سماعت کے بعد ایڈیشنل چیف جج سٹی سیول کورٹ نے صاحبزادگان کی درخواست کو مسترد کردیا اور کہا کہ عدالت میں اس طرح کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا کہ پہلے 6 آصف جاہی حکمرانوں نے سوسائٹی کو دعویداری کا حق دیا ہے۔ درخواست گذار جائیدادوں پر اپنی دعویداری کو ثابت کرنے میں ناکام رہے۔ 1