کشمیر… مسلمانوں کی تعلیم بھی برداشت نہیں
نریندر مودی کی انتخابی جیت کا راز فاش ہوگیا
رشیدالدین
’’جب روم جل رہا تھا نیرو بانسری بجا رہا تھا‘‘ وزیراعظم نریندر مودی پر یہ مثال صادق آتی ہے۔ بین الاقوامی تبدیلیوں کے ہندوستان پر اثرات اور اندرون ملک سلگتے مسائل پر مودی خاموش ہیں۔ روس سے تیل کی خریدی کے مسئلہ پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ہندوستان کو ٹیرف میں اضافہ کی دھمکی، ایران پرحملہ کی تیاری تو دوسری طرف اندرون ملک چین کے قائدین کی بی جے پی اور آر ایس ا یس ہیڈ کوارٹرس میں آمد، کشمیر کے ایک حصہ پر چین کی دعویداری ، جموں میں مسلم طلبہ کے ایم بی بی ایس میں داخلہ کے بعد میڈیکل کالج سے کورس کی برخواستگی ، مغربی بنگال میں انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے دھاوے ، بی جے پی اور سنگھ پریوار کی مخالف مسلم نفرتی مہم ، SIR پر سیاسی پارٹیوں اور عوام کے خدشات ، ڈالر کے مقابلہ روپئے کی قدر میں گراوٹ ، بڑھتی مہنگائی اور بیروزگاری ۔ الغرض کئی مسائل ایسے ہیں جن کے بارے میں قوم کو نریندر مودی کے جواب کا انتظار ہے۔ عالمی تناؤ اور اندرون ملک قومی تنازعات پر نریندر مودی نے جیسے مون ورتھ رکھ لیا ہے۔ نریندر مودی ان تمام مسائل ، حالات اور تبدیلیوں سے بے پرواہ ہوکر آبائی ریاست گجرات کی سڑکوں پر جھومتے اور ڈگڈگی بجاتے دیکھے گئے۔ ایسا محسوس ہورہا تھا کہ نریندر مودی کو عالمی اور قومی مسائل سے زیادہ تفریح کی فکر ہے۔ مسائل سے نمٹنے کی ذمہ داری انہوں نے اپنے وزیر باتدبیر امیت شاہ کو سونپ دی ہے۔ سلگتے مسائل پر نریندر مودی کی خاموشی اور حکومت کے معاملات میں امیت شاہ کی بڑھتی سرگرمیوں سے عوام حیرت میں ہیں۔ وزیراعظم کو کیا کرنا چاہئے اور وہ کیا کر رہے ہیں۔ صرف وشواگرو کہنے سے کوئی ورلڈ لیڈر نہیں بن جاتا۔ ایسے وقت جبکہ دنیا کو ٹرمپ کی قلا بازیوں پر نریندر مودی کے موقف کا دنیا کو انتظار ہے، نریندر مودی گجرات کی سڑکوں پر عوام کے درمیان جھومتے ہوئے ڈگڈگی بجارہے تھے جسے ہندی میں ڈمرو کہا جاتا ہے جو مداری بندر کا کھیل دکھاتے وقت بجاتے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ مودی کی بے فکری اور امیت شاہ کی مستعدی سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2024 کے بعد بھلے ہی اقتدار منتقل نہ ہوا ہو لیکن خاموشی سے پاور شفٹ ہوچکا ہے۔ ملک میں نفرت کے ماحول پر ہمیشہ کی طرح نریندر مودی نے زبان بندی کو جاری رکھا ہے۔ نفرتی عناصر کی سرگرمیاں اب تعلیمی اداروں تک پہنچ چکی ہیں ۔ مسلمانوں کی تعلیم بھی فرقہ پرستوں کو برداشت نہیں۔ ان دنوں دو اہم خبریں سیاسی اور عوامی حلقوں میں موضوع بحث ہیں۔ ایک تو جموں کے ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کورس کی برخواستگی ہے تو دوسرے مدھیہ پردیش میں گوبر اور گائے کے پیشاب سے کینسر ، ٹی بی اور دیگر امراض کے علاج کے ریسرچ کے نام پر 3.5 کروڑ کا گھوٹالہ ہوا ہے۔ تعلیم سے دشمنی نے ہندوستان کی یہ حالت کردی ہے کہ دنیا کی ٹاپ یونیورسٹیز کی فہرست میں ایک بھی ہندوستانی یونیورسٹی نہیں ہے۔ دراصل ہندوستان نے گوبر اور گائے موتر میں اپنا ٹھکانہ تلاش کرلیا ہے۔ جموں کے ویشنو دیوی میڈیکل کالج کے پہلے ایم بی بی ایس بیاچ میں 50 نشستوں میں 44 پر مسلم امیدوار میرٹ کی بنیاد پر منتخب ہوئے۔ میڈیکل کالج میں مسلم طلبہ کو داخلہ کسی مہربانی کا نتیجہ نہیں بلکہ نیٹ امتحان کے رینک کی بنیاد پر دیئے گئے تھے۔ داخلوں کے اعلان کے ساتھ ہی بی جے پی اور سنگھ پریوار کی 60 تنظیموں نے احتجاج شروع کردیا اور مسلم طلبہ کے داخلوں کی مخالفت کی۔ نفرتی عناصر نے دہلی تک اپنی مہم کو پھیلاتے ہوئے نیشنل میڈیکل کونسل کو MBBS کے پہلے بیاچ کو منسوخ کرنے کیلئے مجبور کردیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نریندر مودی نے جس میڈیکل کالج کا سنگ بنیاد اور اپریل 2016 میں افتتاح کرتے ہوئے عصری سہولتوں کا اعتراف کیا تھا، وہاں 9 سال بعد ایم بی بی ایس کورس کی منظوری دی گئی لیکن چار ماہ میں میڈیکل کونسل نے انفراسٹرکچر کی کمی کا بہانہ بناتے ہوئے کورس کو ختم کردیا۔ جموں کا یہ میڈیکل کالج گزشتہ کئی برسوں سے ریاستی حکومت کی گرانٹ حاصل کرتا رہا ہے۔ یونیورسٹی اور میڈیکل کالج کو جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے تاحال 121 کروڑ کی گرانٹ جاری کی گئی ۔ سرکاری گرانٹ حاصل کرتے ہوئے یہ خیال نہیں آیا کہ مسلم چیف منسٹر کی جانب سے منظورہ رقم کیوں حاصل کی جائے۔ مسلم چیف منسٹر کی زیر قیادت حکومت کی گرانٹ تو چاہئے لیکن میرٹ کی بنیاد پر داخلہ حاصل کرنے والے مسلم طلبہ کی تعلیم منظور نہیں۔ مسلم دشمنی کی اس سے بدترین مثال کیا ہوگی کہ میڈیکل کونسل کے ذریعہ ایم بی بی ایس کورس کو ختم کردیا گیا۔ میڈیکل کالج میں سہولتوں کی کمی تو ایک بہانہ ہے دراصل مسلم طلبہ اصل نشانہ ہے۔ مسلمانوں کی شریعت ، معیشت ، زبان اور تہذیب پر حملوں کے بعد اب مسلمانوں کو تعلیم سے محروم کرنے کے ایجنڈہ پر عمل پیرا ہیں۔ یو پی میں اعظم کی یونیورسٹی ، دہلی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ ، ہریانہ کی الفلاح یونیورسٹی اور مسلمانوں کے دیگر تعلیمی اداروں کو فرقہ پرستوں کی نظر لگ چکی ہے۔ جموں کے ویشنو دیوی میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کے پہلے بیاچ کی برخواستگی سے فرقہ پرست عناصر خوشیاں منارہے ہیں لیکن انہیں جان لینا چاہئے کہ جب کبھی بھی کورس بحال ہوگا مسلم طلبہ کو زائد نشستوں پر داخلہ کیلئے مجبور ہونا پڑے گا۔ کشمیر کے نوجوان محنت ، قابلیت اور اہلیت کی بنیاد پر داخلے حاصل کریں گے۔ مسلم طلبہ کے داخلوں کو روکنا ہے تو میڈیکل کالج کو ہمیشہ کیلئے بند کرنا ہوگا۔ سب کا ساتھ ، سب کا وکاس اور سب کا وشواس کا نعرہ لگانے والے نر یندر مودی اس مسئلہ پر خاموش ہیں۔ کورس کی برخواستگی پر کالج کے باہر تعلیم کے دشمنوں نے رقص کرتے ہوئے جشن منایا۔ ظاہر ہے کہ تعلیم کے ان دشمنوں کے دماغ میں گوبر ہی ہوگا جس کے ریسرچ کیلئے 2011 میں مدھیہ پردیش حکومت نے 3.5 کروڑ منظور کئے تھے جو ہضم کرلئے گئے۔ کینسر ، ٹی بی اور دیگر امراض کے علاج کی تحقیق کے لئے 11 کروڑ کا مطالبہ کیا گیا لیکن مدھیہ پردیش بی جے پی حکومت نے 3.5 کروڑ جاری کئے تھے جس میں ایک کروڑ 90 لاکھ روپئے گوبر اور گائے موتر کی خریدی کے نام پر اڑادیئے گئے۔ لاکھوں روپئے فضائی کرایہ پر خرچ ہوئے۔ ظاہر ہے کہ جب توجہ تعلیم سے گوبر اور گائے موتر کی طرف متوجہ ہوجائے تو اسکول ، کالجس اور یونیورسٹیز کا وجود پسند نہیں آئے گا۔ نفرتی عناصر بھول گئے کہ مینارٹیز اور مشنریز کے تعلیمی اداروں میں غیر مسلم طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور آئندہ بھی کریں گے لیکن مسلم طلبہ میرٹ پر بھی داخلہ حاصل کریں تو برداشت نہیں ۔ ایسے عناصر کو گوبر اور گائے موتر کے ریسرچ میں ہی مشغول رہنا چاہئے۔
بات جب نفرت کی چل پڑی ہے تو مرکزی وزیر گری راج سنگھ کے بیان کا تذکرہ ضروری ہے جس میں انہوں نے مسلمانوں کو دور رکھنے کیلئے سور کو پالنے کی بات کہی ہے ۔ اسلام اور مسلمانوں کے نزدیک سور یقیناً حرام اور ناپسندیدہ ہے۔ اس جانور کی خصلت اورعادات کے باعث اسے حرام قرار دیا گیا کیونکہ وہ غذا کے طور پر فضلاء کا استعمال کرتا ہے۔ اب اگر گری راج سنگھ ایسے جانور کو پالنے کی بات کر رہے ہیں تو ان کی خصلت اور عادات پر سوال کھڑے ہوں گے کیونکہ جو شخص جس خصلت کا حامل ہوتا ہے ، اسی کو پسند کرتا ہے۔ مسلمان ویسے بھی کبھی بھی گری راج سنگھ کے پاس نہیں گئے ہوں گے ، اب ان کی نئی عادات کا پتہ چلنے کے بعد مزید دوری اختیار کرلیں گے ۔ گری راج سنگھ نے مسلمانوں کے خلاف نفرت کے جذبہ کے تحت خود کو بے نقاب کردیا۔ دوسری طرف سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی ایک درخواست نے 2024 لوک سبھا الیکشن میں نریندر مودی کی کامیابی کے راز کو فاش کردیا ہے ۔ مودی۔امیت شاہ کو 2024 میں شکست کا یقین ہوچکا تھا ، لہذا انہوں نے الیکشن سے عین قبل الیکشن کمیشن کو عام معافی دیتے ہوئے اپنی کامیابی کی راہ ہموار کی۔ لوک سبھا اور مختلف ریاستوں کے انتخابی نتائج کے یہ ثابت ہورہا ہے کہ الیکشن کمیشن کو عام معافی کے ذریعہ بی جے پی کے حق میں استعمال کیا گیا۔ ملک کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنرس کو جوابدہی سے مستثنیٰ کیا گیا۔ ملک میں وزیراعظم ، مرکزی وزراء ، گورنرس، ججس اور چیف منسٹرس کے خلاف کسی بھی بدعنوانی کی صورت میں کارروائی کی گنجائش ہے لیکن مودی حکومت نے الیکشن سے عین قبل قانون میں ترمیم کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنرس کو عام معافی دے دی ہے۔ قانونی ترمیم کے تحت کسی بھی تنازعہ اور بے قاعدگی کے باوجود ان کے خلاف تاحیات کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ الیکشن کمیشن کی عام معافی کے بعد لوک سبھا اور پھر ہریانہ ، مہاراشٹرا ، دہلی اور بہار اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو کامیابی حاصل ہوئی۔ 21 ڈسمبر 2023 کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں ترمیم کے ذریعہ الیکشن کمیشن کو عملاً بی جے پی کی محاذی تنظیم میں تبدیل کردیا گیا اور الیکشن کمیشن وہی کچھ کر رہا ہے جس کی ہدایت بی جے پی ہیڈکوارٹر سے ملتی ہے۔ ملک میں نفرتی عناصر کی سرگرمیوں پر علی احمد جلیلی کا یہ شعر صادق آتا ہے ؎
نفرتوں نے ہر طرف سے گھیر رکھا ہے ہمیں
جب یہ دیواریں گریں گی راستہ ہوجائے گا