پاکستان نے پیر کو ہندوستان کے وزارت خارجہ کے انچارج ہائی کمشنر کو طلب کیا اور حال ہی میں ہریدوار میں منعقد ایک اجلاس میں اقلیتوں کے خلاف تشدد بھڑکانے کے ارادے سے دئیے گئے مبینہ نفرت بھری تقاریر پر تشویش ظاہر کی۔ ہریدوار میں 16 سے 19 دسمبر کے درمیان، وید نکیتن دھام میں منعقدہ دھرم سنسد میں مقررین نے مسلمانوں کے خلاف مبینہ طور پر نفرت پھیلانے والی تقریریں کی تھیں۔ اس پروگرام کا انعقاد غازی آباد میں ڈاسنا مندر کے پروہت یتی نرسمہانند نے کیا تھا۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی تقریروں اور تشدد کو بڑھاوا دینے کے لئے پولیس کی پہلے سے ہی نرسمہانند پر نظر ہے ، خارجہ دفتر کے ایک بیان کے مطابق، ہندوستان کے لئے یہ بہت ہی قابل مذمت بات ہے کہ نہ تو آرگنائزرئس نے کوئی افسوس ظاہر کیا ہے اور نہ ہی حکومت ہند نے اُن کی مذمت کی ہے۔ اُن کے خلاف کوئی کارروائی بھی نہیں کی ہے۔ خارجہ دفتر نے کہا کہ مسلمانوں کے خلاف تشدد کے لگاتار واقعات نے ’اسلام کو لے کر ڈر کے بگڑتے رجحان کو اُجاگر کیا ہے اور ہندوستان میں مسلمانوں کی تقدیر کے بارے میں ایک گمبھیر سوال کھڑا کیا ہے۔