نفرت انگیز تقاریر و جرائم کے انسداد کا بل اسمبلی کی سلیکٹ کمیٹی سے رجوع

   

ایوان میں گرما گرم مباحث، بی جے پی سی پی آئی نے بل کی مخالفت کی، کانگریس اور مجلس نے ترمیمات کیلئے سلیکٹ کمیٹی کی تجویز پیش کی، سلیکٹ کمیٹی کی عنقریب تشکیل
حیدرآباد ۔30 ۔ مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں انسداد نفرت انگیز تقاریر و جرائم بل پر گرما گرم مباحث ہوئے اور حکومت نے ارکان کی اکثریت کی تجویز پر بل کو اسمبلی کی سلیکٹ کمیٹی سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر ٹرانسپورٹ پونم پربھاکر نے انسداد نفرت انگیز تقاریر و جرائم بل کو منظوری کیلئے ایوان میں پیش کیا۔ کانگریس ، بی جے پی ، مجلس اور سی پی آئی کے تقریباً 14 ارکان نے مباحث میں حصہ لیا اور بل کے بارے میں ہر پارٹی کا علحدہ موقف تھا۔ کانگریس اور مجلس کے ارکان نے بل کو مزید غور اور ضروری ترمیمات کیلئے اسمبلی کی سلیکٹ کمیٹی سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا جبکہ بی جے پی اور سی پی آئی نے بل سے مکمل دستبرداری کا مطالبہ کیا۔ ارکان نے اندیشہ ظاہر کیا کہ بل کے تحت پولیس کو جو اضافی اختیارات دئے گئے ہیں، ان کے غلط استعمال کا امکان ہے۔ ارکان کا کہنا تھا کہ نفرت انگیز تقاریر اور جرائم کی آڑ میں انتقامی کارروائیاں کی جاسکتی ہیں۔ کانگریس کے بیشتر ارکان نے کہا کہ اگرچہ سوشیل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمس پر مذہبی ، سیاسی اور علاقائی بنیادوں پر نفرت انگیز مہم کو روکنے کی ضرورت ہے لیکن صرف ایک فرد کے قصوروار ہونے کی صورت میں دیگر افراد کو بھی مقدمہ میں شامل کرنا درست نہیں ہے۔ ارکان نے سلیکٹ کمیٹی میں بل کا از سر نو جائزہ لیتے ہوئے ترمیمات کی تجویز پیش کی ۔ مباحث کا جواب دیتے ہوئے وزیر ٹرانسپورٹ پونم پربھاکر نے کہا کہ سماج میں سوشیل میڈیا اور دیگر ذرائع پر نفرتی سرگرمیوں پر روک تھام ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وسیع تر مشاورت کے بعد بل تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے ارکان کے اندیشوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بل کے ذریعہ انسانی حقوق کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوگی اور دستور کی دفعہ 19 کے تحت اظہار خیال کی آزادی متاثر نہیں ہوگی۔ انہوں نے ارکان کی اکثریت کی رائے کی بنیاد پر بل کو ایوان کی سلیکٹ کمیٹی سے رجوع کرنے کی تجویز پیش کی جس سے اسپیکر اسمبلی نے اتفاق کرلیا۔ وزیر امور مقننہ ڈی سریدھر بابو نے قرارداد منظور کرتے ہوئے اسپیکر کو سلیکٹ کمیٹی کی تشکیل کا اختیار دیا ہے۔ بی جے پی فلور لیڈر مہیشور ریڈی نے بل کی مخالفت کی اور کہا کہ لاء اینڈ آرڈر کے نام پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ بل میں کارروائی کے بارے میں وضاحت نہیں کی گئی اور یہ بل اظہار خیال کی آزادی کو کچلنے کا ایک ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشیل میڈیا کے کسی گروپ میں غلط پوسٹنگ کیلئے گروپ کے تمام ارکان کو قصوروار قرار دینا درست نہیں ہے۔ جرم ثابت ہونے سے قبل ہی جیل بھیجنے کی بل کے تحت گنجائش رکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بل کے کئی دفعات کا عوام کے خلاف غلط استعمال کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی تبدیلی کے بعد کانگریس ارکان کو اپنی غلطی کا احساس ہوگا۔ مجلس کے احمد بلعلہ نے کہا کہ بل میں کئی خامیاں موجود ہیں۔ نفرت انگیز تقاریر اور جرائم سے نمٹنے کیلئے بی این ایس قانون میں گنجائش موجود ہے۔ کسی بھی مذہب کی تبلیغ کو نفرت کے دائرہ میں شامل نہیں کیا جاسکتا۔ عہدیداروں کو زائد اختیارات سے عوام کو مشکلات ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے بل کو سلیکٹ کمیٹی سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا۔ سی پی آئی کے سامبا سیوا راؤ نے بل کی مخالفت کی اور کہا کہ جہدکاروں ، شعراء اور ادیبوں پر کنٹرول کیلئے یہ بل پیش کیا گیا ہے۔ انگریزوں کے دور حکومت میں اسی طرح کا قانون تھا ۔ انہوں نے کہا کہ واٹس ایپ پر کسی مسیج کو فارورڈ کرنا بھی بل کے تحت جرم قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے بل سے دستبرداری کا مطالبہ کیا۔ کانگریس کے ڈی ناگیندر نے سوشیل میڈیا پر چیف منسٹر اور وزراء کے خلاف مہم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سوشیل میڈیا پر کنٹرول کے لئے سخت میکانزم کی ضرورت ہے۔ انہوں نے آرٹیفشل انٹلیجنس کے استعمال کے ذریعہ نفرت انگیز مواد کے حقیقی خاطیوں کا پتہ چلانے کا مشورہ دیا۔ کانگریس کی ڈاکٹر راگمیاں ، لکشما ریڈی ، ایشسوینی ریڈی ، کے شنکریا ، کے آر ناگراج اور سری گنیش نے بھی بل کو سلیکٹ کمیٹی سے رجوع کرنے کی تجویز پیش کی۔ بی جے پی کے پی شنکر اور راکیش ریڈی نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے بل کی مخالفت کی۔ وزیر ٹرانسپورٹ پونم پربھاکر نے وضاحت کی کہ بل کے ذریعہ دستور اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا کوئی ارادہ نہیں ہے تاہم حکومت بل کی مزید تفصیلی جائزہ کیلئے اسمبلی کی سلیکٹ کمیٹی سے رجوع کرے گی۔1