نفرت انگیز تقاریر کو آہنی پنجہ سے کچل دینے کی تیاری ، سخت قانون متوقع

   

میڈیا اور سوشیل میڈیا پر بھی گہری نظر، ایس آئی ٹی رپورٹ وصول ہونے کے بعد حتمی فیصلہ کا امکان
حیدرآباد ۔15 ۔ جنوری (سیاست نیوز) ریاستی حکومت نفرت انگیز تقاریر اور سوشیل میڈیا اور مین اسٹریم میں نفرت کو فروغ دینے والے خبروں کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کیلئے سنج یدگی سے غور کر رہی ہے ۔ سرکاری ذ رائع کے مطابق حکومت کرناٹک کی جانب سے حال ہی میں پیش کئے گئے نفرت انگیز تقریر اور نفرت انگیز جرائم (روک تھام) بل 2025 کی طرز پر ایک خصوصی قانون سازی کی تیاری میں ہے ۔ پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں کو پہلے ہی ایسے معاملات پر گہری نظر رکھنے کی ہدایات دی جا چکی ہیں۔ کرناٹک حکومت نے حال ہی میں قانون ساز اسمبلی میں نفرت انگیز تقریر اور جرائم کی روک تھام سے متعلق بل پیش کیا ہے جس کا مقصد مذہب ، ذات پات ، نسل ، مبان ، جنس ، جنسی رجحان ، جائے پیدائش، رہائش ، معذوری اور قبائلی شناخت کی بنیاد پر نفرت کو ہوا دینے والی تقاریر اور کارروائیوں پر قابو پانا ہے۔ اس بل کے تحت عوامی مقامات ، الیکٹرانک میڈیا یا سوشیل میڈیا کے ذریعہ زبانی ، تحریری اشاروں میں کی گئی ایسی کوئی بھی بات جو کسی فرد یا گروہ کے خلاف نفرت یا دشمنی کو ابھارنے کی نیت سے ہو، نفرت انگیز تقریر کے زمریمیں آئے گی اور اسے قابل سماعت اور ناقابل ضمانت جرم تصور کیا جائے گا بل میں وضاحت کی گئی ہے کہ ایسے مقدمات کی سماعت فرسٹ کلاس جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں ہوگی ۔ اگر پیشگی طور پر کسی نفرت انگیز جرم کے امکانات ظاہر ہوں تو اگزیکیٹیو مجسٹریٹ یا ڈپٹی ایس پی کے درجہ سے کم نہ ہونے والا پولیس آفیسر احتیاطی اقدامات کرسکے گا۔ سوشیل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا سے نفرت پھیلانے والے مواد کو ہٹانے یا بلاک کرنے کے اختیارات بھی فراہم کئے گئے ہیں۔ بل کے تحت نفرت پر مبنی جرم ثابت ہونے یا کم از کم ایک سال سے 7 سال تک قید اور 50 ہزار روپئے تک جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے جبکہ جرم دہرانے کی صورت میں سزا دو سے دس سال قید اور ایک لاکھ روپئے تک جرمانہ بڑھ سکتا ہے ۔ عدالت کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگی کہ وہ نقصان کی نوعیت اور شدت کو مدنظر رکھتے ہوئے متاثرین کو مناسب معاوضہ فراہم کریں۔ سیاسی اور قانونی حلقوں میں یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ آیا ریاست میں بھی کرناٹک کی طرز پر ایسا ہی سخت قانون نافذ کیا جائے گا ۔ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ ریاست کے دو سنگین مقدمات ، (خاتون آئی پی ایس آفیسر اور چیف منسٹر کی تصویر مارفنگ) کی تحقیقات کیلئے جو ایس آئی ٹی تشکیل دی گئی ہے ۔ اس کی رپورٹ پر حکومت اس سمت میں حتمی فیصلہ کرے گی جس سے مستقبل میں نفرت انگیز تقاریر سوشیل میڈیا اور میڈیا پر نفرت انگیز مواد کے خلاف کارروائی مزید سخت ہوسکتی ہے۔2
جی ایچ ایم سی میں بی سی طبقات
کو 122 نشستیں مختص
حیدرآباد ۔15 ۔ جنوری (سیاست نیوز) حکومت نے ریاست میں بلدی انتخابات کے پیش نظر تحفظات کو قطعیت دے دی ہے جس میں 2011 کی مردم شماری اور بی سی ڈیڈیکیشن کمیشن رپورٹ کی بنیاد پر جی ایچ ایم سی کے 300 وارڈس کیلئے بی سی، خواتین ، ایس سی ، ایس ٹی ، جنرل نشستوں کے لئے تحفظات کو قطعیت دے دی ہے ۔ جملہ وارڈس میں بی سی طبقات کیلئے 122 وارڈس مختص کئے گئے ہیں جس میں مردوں کیلئے 61 اور خواتین کیلئے 61 نشستیں شامل ہیں۔ اس لحاظ سے 40 فیصد سے زائد تحفظات بی سی طبقات کو حاصل ہوا ہے۔ اس کے بعد 76 نشستوں میں ایس ٹی کیلئے 5 مختص کئے گئے ہیں۔ ان میں مردوں کیلئے 3 ، خواتین کے لئے 2 شامل ہیں۔ غیر محفوظ زمرہ میں 74 نشستیں شامل ہیں۔ تمام زمروں میں خواتین کو 150 نشستیں حاصل ہورہی ہیں۔ 2