نفرت اور تعصب کے خاتمہ کیلئے کانگریس اقتدار ضروری

   

کے سی آر پر عوام کو دھوکہ دینے کا الزام ، سنگاریڈی میں جلسہ سے خسروپاشاہ کا خطاب

سنگاریڈی ۔22 نومبر ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) حضرت سید شاہ غلام افضل بیابانی خسرو پاشاہ سجادہ نشین درگاہ حضرت افضل بیابانی ؒ قاضی پیٹ ورنگل نے سنگاریڈی میں کانگریس پارٹی کے ایک جلسہ میں شرکت کی اور کہا کہ ملک سے نفرت،تعصب،فرقہ واریت اور مذہبی منافرت کے خاتمہ اور فرقہ واری بھائی چارگی،مذہبی رواداری، اور سیکولرزم کے فروغ کے لیے کانگریس پارٹی کا اقتدار میں آنا ضروری ہے۔ مرکز میں کانگریس کو اقتدار پر لانے کا راستہ تلنگانہ سے ہوکر جاتا ہے چنانچہ عوام تلنگانہ میں کانگریس کو زبردست کامیابی سے ہمکنار کریں۔ جمہوریت میں عوام کے پاس سب سے موثر ہتھیار ووٹ ہے ، ہمیں اس کا دانشمندی سے استعمال کرنا چاہئے۔ مسلمان ووٹ کا متحدہ طور کانگریس کے حق میں استعمال کریں۔ مسلکی تفرقہ سے بالاتر ہوکر کانگریس کو ووٹ دیں تاکہ تلنگانہ میں ایسی حکومت قائم ہو جو مسلمانوں کی ترقی اور فلاح و بہبود کا کام کرے۔ تلنگانہ اور ملک کے بہتر مستقبل کے لیے کانگریس کا اقتدار میں آنا ناگزیر ہے۔ جگا ریڈی رکن اسمبلی سنگاریڈی نے کہا کہ کے سی آر نے 2014 میں اقتدار میں آنے میں آنے پر اندرون 4 ماہ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن چیف منسٹر بننے کے 9 سال بعد بھی کے سی آر نے مسلمانوں سے وعدہ پورا نھیں کیا۔ بی آر ایس نے پارلیمنٹ میں بی جے پی حکومت کے کئی بلس کی تائید کی ہے لیکن 12 فیصد منظور نھیں کروایا اور نا ہی بی آر ایس کے ایم پی نے پارلیمنٹ میں اس کے لیے آواز اٹھائی۔ عوام بی آر ایس کے دھوکہ میں نہ آئیں۔ احمد الاسلام ( گلبرگہ) نے کہا کہ کنیز فاطمہ رکن اسمبلی گلبرگہ کی قیادت میں گلبرگہ کا ایک وفد سنگاریڈی میں کانگریس امیدوار کے حق میں مہم چلا رہا ہے اور انھیں کانگریس کے حق میں لہر دِکھ رہی ہے۔ عوام مثبت ردعمل ظاہر کر رہے ہیں۔ عثمان محمد خان نے کہا کہ بی آر ایس نے مسلمانوں کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے کوئی کام انجام نھیں دیا۔ کے سی آر نے مسلمانوں سے جھوٹے وعدے کرتے ہوے مسلمانوں کو دھوکہ دیا۔ سپریم کورٹ میں 4 فیصد تحفظات کی پیروی کانگریس قائدین کر رہے ہیں۔ مرکز میں بی جے پی کو اقتدار سے بیدخل کرنے پہلے تلنگانہ سے بی آر ایس کا اقتدار ختم کرنا ہوگا۔ حافظ شیخ شفیع رکن بلدیہ نے کہا کہ جگا ریڈی ہمدرد انسان ہے جو عوام کا دکھ درد سمجھتے ہے اور ان کی مدد کرتے ہیں۔ اس موقع پر سید عمران کے بشمول کئی مسلم نوجوانوں نے کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کی ۔