بی جے پی پر راہول گاندھی کا الزام ۔خاطیوںکیخلاف کاروائی کا مطالبہ
نئی دہلی:کانگریس قائد راہول گاندھی نے کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس ہندوستان میں فیس بک اور واٹس اپ کو کنٹرول کرتے ہیںاور اس کے ذریعہ فرضی خبریں اور نفرت پھلاتے ہیں ۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ وہ رائے دہنددں کو متاثر کرنے کیلئے بھی اس کا استعمال کرتے ہیں ۔ کانگریس نے امریکہ کے مشہور اخبار میں شائع ایک مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی پرالزام لگایا کہ وہ فیس بک اور واٹس ایپ جیسے سوشل میڈیا کااستعمال کرکے ملک میں نفرت پھیلا کر سیاسی ایجنڈے پر کام کررہی ہے ۔کانگریس ترجمان اجے ماکن نے بھی پریس کانفرنس میں اسے سنگین صورت حال قراردیااور کہا کہ معاملے کی جانچ کرکے ملک کو توڑنے کی سازش کرنے والے فیس بک کے افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہئے ۔انہوں نے کہاکہ مضمون کے مطابق اس جرم میں فیس بک کے ہندوستانی افسران ملوث ہیں اور ان کی شناخت کرکے ان کے خلاف مقدمہ دائر کیا جانا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنے پہلے صفحہ پر شائع اس مضمون میں کہا ہے کہ بی جے پی سوشل میڈیا کا اپنے مفاد میں بخوبی استعمال کرکے ملک میں نفرت کا ماحول پیدا کرکے سیاسی فائدہ حاصل کررہی ہے ۔اخبار نے کہاہے کہ چار افسران کے اس میں ملوث ہونے کی فیس بک واچ ٹیم نے شناخت کرکے ان کو ہٹانے کی سفارش کی تو فیس بک کے ہندوستانی اعلی افسر نے یہ کہتے ہوئے انہیں ہٹانے سے انکار کردیا کہ اس سے کمپنی کا کام متاثر ہوگا۔ ماکن نے سوال کیا کہ فیس بک اور واٹس ایپ سے جڑے ان افسران نے کس مقصد سے نفرت کا ماحول پھیلانے اوردنگے بھڑکانے میں مدد کرکے بی جے پی کوانتخابات میں فائدہ پہنچانے کا کام کیا ہے ۔ اس کا خلاصہ ہونا چاہئے کہ فیس بک کے ان افسران کے بی جے پی سے کیا رشتے ہیں۔
وزیر اعظم مودی کو فوج کی صلاحیت پر بھروسہ نہیں:راہول
نئی دہلی : کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی نے وزیراعظم نریندرمودی پر اتوار کو تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنی فوج کی بہادری اور صلاحیت پر بھروسہ نہیں ہے ۔ راہول گاندھی نے کہا کہ پورا ملک فوج پر فخر کرتا ہے اور ملک کے عوام کو اپنی فوج کے حوصلے اور صلاحیت پر پورا بھروسہ ہے لیکن وزیر اعظم کو ہندوستانی فوج کی بہادری اور اس کی صلاحیت پر بھروسہ نہیں ہے ۔سوائے وزیراعظم کے ،جن کی بزدلی نے ہی چین کو ہماری زمین لینے دی۔جن کا جھوٹ یقین دہانی کرے گا کہ وہ چین کے پاس ہی رہے گی۔’’