نفرت کو فروغ دینا اور اس کو انتخابات کے ایندھن میں تبدیل کرنا بی جے پی کی پالیسی

   

80 فیصد واقعات بی جے پی ریاستوں کی حکومتوں میں پیش آئے ۔ ہندو واچ تنظیم کی سنسنی خیز رپورٹ
33 فیصد مقدمات میں ملزمین نے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تبصرے کئے ۔ 52 فیصد واقعات ہندوتوا جماعتوں کے اجلاسوں میں رپورٹ ہوئے

حیدرآباد : /2 اکٹوبر (سیاست نیوز) سیاسی فائدے کیلئے عوام میں نفرت کو ہوا دینا اور اس کو انتخابات کے ایندھن میں تبدیل کردینا بی جے پی کی پالیسی بن گئی ہے ۔ امریکہ میں خدمات انجام دینے والی ’’ہندو واچ‘‘ نامی تنظیم کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں اس کا انکشاف ہوا ہے ۔ ملک کے جن ریاستوں میں انتخابات منعقد ہوئے ہیں وہاںایسے بے شمار واقعات پیش آئے ہیں ۔ پارلیمنٹ میں مسلم رکن پارلیمنٹ کی تذلیل کرنے والے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے انہیں انعام کے طور پر بی جے پی کا الیکشن انچارج بنادیا گیا ہے ۔ بین الاقوامی سطح پر خدمات انجام دینے والی تنظیم کی جانب سے جاری کردہ حالیہ رپورٹ کے مطابق رواں سال جنوری سے جون تک ملک کی 17 ریاستوں میں نفرت انگیز تقاریر کے 255 مقدمات درج کئے گئے ہیں ۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان میں سے 205 (80 فیصد) مقدمات بی جے پی ریاستوں میں درج ہوئے ہیں ۔ رپورٹ میں کئی چونکادینے والے انکشافات ہوئے ہیں ۔ 2014 ء میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد 2020 ء تک ملک بھر میں نفرت انگیز تقاریر کے واقعات میں 500 فیصد اضافہ ہوگیا ہے ۔ بی جے پی نے لوجہاد ، لینڈ جہاد ، حلال جہاد ، بزنس جہاد جیسے الفاظ کو ایجاد کرتے ہوئے نفرت کو فروغ دیا ہے ۔ بی جے پی انتخابات میں سیاسی فائدہ اٹھانے اور ہندو ووٹرس کی تائید حاصل کرنے کیلئے ان اصطلاحات کا بڑے زور و شور سے استعمال کررہی ہے ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس سال درج کئے گئے نفرت کے واقعات میں 70 فیصد واقعات ان ریاستوں میں سامنے آئے ہیں جہاں سال 2023 ء اور 2024 ء میں اسمبلی انتخابات منعقد ہونے والے ہیں ۔ کرناٹک انتخابات میں دو سال قبل سے انتخابات تک نفرت انگیز تقاریر کے 68 مقدمات درج کئے گئے ۔ غیر رجسٹرڈ واقعات دوگنی ہونے کی توقع ہے ۔ کرناٹک میں بی جے پی حکومت نے فبروری 2020 ء سے اپریل 2023 ء کے درمیان 385 مجرمانہ مقدمات کو معاف کیا ہے ۔ بی جے پی اور سنگھ پریوار سے تعلق رکھنے والے تقریباً 1000 قائدین اور کارکنوں پر درج کردہ مقدمات سے دستبرداری اختیار کرلی گئی ۔ اعداد و شمار سے یہ واضح ہوگیا کہ کرناٹک میں بی جے پی حکومت نے ترقی اور فلاح و بہبود پر توجہ دینے کے بجائے انتخابات سے ایک یا دو سال قبل نفرت کے منصوبے کو لاگو کیا ہے ۔ تلنگانہ میں بھی بی جے پی قائدین نے نفرت آمیز تبصرے کرنا شروع کردیا ہے ۔ جس کے بعد بی جے پی قیادت نے اپنے ہی رکن اسمبلی راجہ سنگھ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں پارٹی سے معطل کردیا ہے ۔ ہندوتوا واچ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مہاراشٹرا ، کرناٹک ، مدھیہ پردیش ، راجستھان ، گجرات اور دیگر ریاستوں میں نفرت انگیز تقاریر سے متعلق سب سے زیادہ مقدمات درج ہوئے جبکہ صرف مہاراشٹرا میں 29 فیصد کیسیس رپورٹ ہوئے ہیں ۔ 52 فیصد واقعات آر ایس ایس ، بی جے پی ، وی ایچ پی ، بجرنگ دل جیسی تنظیموں کی جانب سے منعقد کئے گئے اجلاسوں میں رپورٹ ہوئے ہیں ۔ 33 فیصد مقدمات میں ملزمین نے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تبصرے کئے ۔ 12 فیصد واقعات میں ہتھیار اٹھانے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا ۔ ن