ہندو بچوں کی پرورش ، انہی کی روایات میں شادی ، کمشنر پولیس سجنار کی ستائش
حیدرآباد۔ 13 فروری (سیاست نیوز) ایک ایسے دور میں جب مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر نفرت کے بیج بونے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کرناٹک کے ضلع بیلگاوی کے ہیکری تعلقہ کے ایک گاؤں سے انسانیت اور ہندو۔ مسلم اتحاد کی ایک متاثر کن مثال سامنے آئی ہے۔ محبوب حسن اور ان کی اہلیہ نور جہاں جو بسنت واڑہ گاؤں کے رہنے والے ہیں نے اپنے پڑوسی لنگایت دوست کدایا اور شیلاکے دو کمسن بیٹوں سوما سیکر اور وسنت کو ا پنے سائے میں لے لیا جب بچوں کے والدین کا انتقال ہوگیا۔ اس وقت سوما سیکر کی عمر چار سال اور وسنت کی عمر صرف دو سال تھی۔ محبوب حسن جو کرناٹک اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن میں بطور ڈرائیور خدمات انجام دے کر ریٹائر ہوئے اور نور جہاں نے نہ صرف بچوں کی کفالت کی بلکہ گزشتہ 20 برسوں تک ان کی تعلیم و تربیت کی مکمل ذمہ داری بھی نبھائی۔ انہوں نے بچوں کو ان کے اپنے مذہبی عقائد اور لنگایت روایات پر عمل کرنے کی مکمل آزادی دی، حال ہی میں سوماسیکر کی شادی لنگایت رسومات کے مطابق پونم نامی لڑکی سے انجام پائی محبوب حسن اور نور جہاں نے والدین کا کردار ادا کیا۔ اس موقع پر محبوب حسن نے کہا کہ میں اور کدایا گہرے دوست تھے۔ مذہب ہماری دوستی میں کبھی رکاوٹ نہیں بنا۔ ہم نے ان کے بیٹوں کو ضرور اپنایا مگر ان کی روایات اور عقیدے کا ہمیشہ احترام کیا۔ نورجہاں نے کہا کہ اگرچہ کہ بچوں نے اسلام قبول نہیں کیا لیکن ان کی پرورش اپنے سگے بچوں کی طرح کی گئی۔ ان کا ماننا ہے کہ اصل رشتہ انسانیت کا ہوتا ہے، مذہب کا نہیں، یہ واقعہ اس بات کا عملی ثبوت ہے۔ ہندو۔ مسلم اتحاد کا صرف نعرہ نہیں بلکہ زندہ حقیقت بن سکتا ہے بشرطیکہ انسانیت کو مذہب پر فوقیت دی جائے۔ ایسے واقعات معاشرے کو یہ سبق دیتے ہیں کہ محبت، رواداری اور باہمی احترام ہی ایک مضبوط اور پرامن سماج کی بنیاد ہے۔ حیدرآباد کے پولیس کمشنر وی سی سجنار نے بھی اس واقعہ کی ستائش کرتے ہوئے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ یہ واقعہ ہندوستانی ثقافت کی اصل روح کی عکاسی کرتا ہے۔ جہاں انسانیت، محبت اور باہمی احترام کو مذہب اور ذات پات پر فوقیت حاصل ہے۔ انہوں نے ایسے اقدامات کو معاشرے کے لئے مشعل راہ قرار دیا۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ نفرت کے بجائے ایسے مثبت واقعات کو فروغ دیا جائے تاکہ آنے والی نسلوں کے لئے محبت، رواداری اور اتحاد کی مثال قائم کی جاسکے۔ 2