بھاری مقدار میں نوٹس ضبط ، اڈیشنل کمشنر پولیس کرائمس اے آر سرینواس کی پریس کانفرنس
حیدرآباد : یکم ۔ فبروری (سیاست نیوز) نقلی نوٹس کے ذریعہ دھوکہ دہی میں ملوث بین ریاستی چار رکنی ٹولی کو ٹاسک فورس پولیس نے نامپلی پولیس کی مدد سے گرفتار کرلیا ۔ ایڈیشنل کمشنر آف پولیس کرائمس مسٹر اے آر سرینواس نے بتایا کہ اس ٹولی کا سرغنہ 30 سالہ کنہیا لال ہے جس کا تعلق راجستھان کے ضلع بیکانر سے ہے ۔ اس نے اپنے ساتھیوں 24 سال ہرام اوتار شرما ، 26 سالہ بھرت کمار اور 25 سالہ رام کشن شرما کی مدد سے کئی افراد سے قرض حاصل کرکے اس کی ادائیگی کے دوران نقلی نوٹس حوالے کررہا تھا ۔ بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ دھوکہ بازوں نے ہوٹل مجسٹک واقع نامپلی کے مالک محمد یونس سے 30 لاکھ روپئے کا قرض حاصل کیا اور فوری طور پر دھوکہ بازوں نے 30 لاکھ کے نقلی نوٹس تیار کرتے ہوئے اسے پالیتھین کور میں لپیٹ کر یکم جنوری کو واپس کردیا ۔ درخواست گزار نے دو دن بعد اس رقم کے بیاگ کو کھول کر دیکھنے پر نقلی نوٹ موجود ہونے کا انکشاف ہوا ۔ اسی دوران کنہیا لال اور رام اوتار شرما نے آئی کان ٹکنالوجیز پرائیوٹ لمیٹیڈ کے ذمہ داران سے 50 لاکھ روپئے کا قرض حاصل کیا اور رقم کی ادائیگی کے وقت نقلی نوٹس حوالے کردیئے ۔ دو دن بعد اس بات کا انکشاف ہونے پر متاثرہ افراد نے فوری طور پر متعلقہ پولیس سے شکایت کی اور دھوکہ بازوں کا پتہ لگانے کی کوشش کرتے ہوئے ان سے موبائیل فون پر ربط پیدا کیا لیکن وہ ناکام رہے ۔ نامپلی پولیس نے اس سلسلہ میں دو علحدہ مقدمات درج کئے تھے اور ملزمین کو گرفتار کرتے ہوئے ان کے قبضہ سے بھاری مقدار میں نقلی نوٹس برآمد کرلئے گئے ۔ ب