نلگنڈہ : غریبوں کے تعمیر امکنہ کیلئے 50 ایکر اراضی کی نشاندہی

   

ہر گھر میں پینے کے پانی کی فراہمی کے اقدامات، ترقیاتی پروگراموں سے ریاستی وزیر کے وینکٹ ریڈی کا خطاب
نلگنڈہ۔ 3 اکتوبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)غریب و بے گھر مستحق خاندانوں کو امکنہ جات کے لئے 50 ایکر اراضی کی نشاندھی کی گئی ہے اندرون 15یوم گولڈ اسمتھ کے مسئلے کو حل کرنے کے علاوہ مستقل مسلخ کے لئے اراضی کی نشاندھی کروانے کا ریاستی وزیر عمارات و شوارع کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے آج مختلف ترقیاتی پرگراموں کے افتتاح کے موقع پر تیقن دیا انہوں نے پرکاشم بازار میں 75 لاکھ روپئے سے تعمیر کردہ مٹن مارکیٹ کے افتتاح کے بعد مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کو دوکان نہ ملی ہوتو مایوس ہو نیکی ضرورت نہیں انکے لیے بھی دوسرے مقام پر مٹن مارکیٹ کی تعمیر کروائی جائے گی۔ اُنہوں نے ضلع کلکٹر کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر مستقل مسلخ کی تعمیر کے لئے اراضی کی نشاندہی کریں۔ اْنہوں نے عہدیداروں کو ہدایت کی کہ مستحق پیشہ ور افراد کو ہی دوکانات مختص کریں ریاستی وزیر نے کہا کہ بٹو گوڑہ ہائی اسکول 3 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کی جارہی ہے اندرون ڈسمبر تک اسکی تعمیر مکمل ہوجائیگی اْنہوں نے کہا کہ نلگنڈہ مستقر میں بے گھر غریب عوام کے لیے 50 ایکر اراضی پختہ مکانات تعمیر کروایاجائیگااس موقع پر وزیر موصوف نے کہا کہ نلگنڈہ ٹاؤن میں 500 کروڑ روپئے کی لاگت سے سڑکوں اور سیوریج کے کام جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نلگنڈہ شہر میں پینے کے پانی کے مسئلہ کو حل کرنے کے لئے مشن بھگیرتا کے ذریعے ہر گھر کو پینے کا پانی فراہم کرنے کے لئے اقدامات کئے جائینگے اس کے لئے شہری علاقوں میں 11 لاکھ پینے کے پانی کی گنجائش کے ساتھ 15 پینے کے پانی کے ٹینک بنائے جارہے ہیں۔ ہریتا ہوٹل مہاتما گاندھی یونیورسٹی کے قریب 25 کروڑ روپے کی لاگت سے محکمہ سیاحتی مرکز تعمیر کیا جائے گا۔ اْنہوں نے کہا کہ اندراماں گھر ان غریبوں کے لیے بنائے جائیں گے جن کے پاس گھر نہیں ہیں۔ مہالکشمی اسکیم کے تحت دیئے جارہے ہیں بعد ازاں ریاستی وزیر ما نیم چلکا میں اربن پرائمری ہیلتھ سنٹر کے تعمیراتی کام کا اچانک معائنہ کیا۔ اس موقع پر ایڈیشنل کلکٹر جے۔ سری نواس، میونسپل چیرمین بوری سرینواس ریڈی، آر اینڈ بی ایس۔ای ستیہ نارائنا، میونسپل وائس چیرمین ابا گونی رمیش گوڈ، میونسپل کمشنر مصا ئب احمد، رْکن بلدیہ محمد سمیع محبوب علی امتیاز محمد فصاحت علی بابا محمد خلیل محمد عزیز الدین بشیر محمد صمد کے علاوہ دیگر قائدین و ملازمین بھی شریک تھے۔