نلگنڈہ میں بلدی انتخابات کے پیش نظرسیاسی سرگرمیاں عروج پر

   

نلگنڈہ۔21؍جنوری(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) نلگنڈہ میں مجوزہ بلدی انتخابات کے پیشِ نظر سیاسی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ حکمراں کانگریس اور اپوزیشن بی آر ایس نے انتخابی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے وارڈ سطح پر تفصیلی سروے شروع کر دیے ہیں جن کی بنیاد پر مضبوط اور قابلِ قبول امیدواروں کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔سیاسی ذرائع کے مطابق جن حلقوں میں پارٹی امیدوار انتخابی لحاظ سے کمزور پائے جا رہے ہیں وہاں دوسری جماعتوں کے بااثر اور مضبوط رہنماؤں کو شامل کر کے میدان میں اتارنے کی حکمتِ عملی اختیار کیے جانے کا امکان ہے۔ بڑی سیاسی جماعتوں کا اصل ہدف زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کر کے میونسپل کارپوریشن اور بلدی اداروں میں میئر اور چیئرمین کے عہدوں پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ متحدہ ضلع کے نلگنڈہ میونسپل کارپوریشن کے علاوہ 17 دیگر میونسپلٹیوں کے انتخابات متوقع ہیں۔ چونکہ وارڈ ریزرویشن کو حتمی شکل دی جا چکی ہے اور متعدد وارڈز میں ریزرویشن میں تبدیلی عمل میں آئی ہے اس لیے سیاسی جماعتیں نئے حالات کے مطابق اپنی انتخابی حکمتِ عملی مرتب کر رہی ہیں۔ٹکٹ کے خواہشمند امیدواروں نے وزراء ، ایم ایل ایز اور اہم پارٹی قائدین سے ملاقاتوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ کانگریس پارٹی میں ٹکٹ کے امیدواروں کی کثرت کے باعث کئی وارڈز میں سخت اندرونی مقابلہ متوقع ہے جب کہ بی آر ایس میں بھی بعض حلقوں میں مسابقت کی صورتحال دیکھنے میں آ رہی ہے۔جہاں اپنی جماعت کے امیدوار کمزور تصور کیے جا رہے ہیں وہاں دونوں بڑی جماعتیں دوسری پارٹیوں کے مضبوط اور اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کو شامل کرنے پر غور کر رہی ہیں۔ سروے رپورٹس کی بنیاد پر امیدواروں کی فہرست میں رد و بدل کا عمل جاری ہے۔سیاسی جماعتیں میئر اور چیئرمین کے عہدوں کو غیر معمولی اہمیت دے رہی ہیں جس کے باعث امیدواروں کے انتخاب میں انتہائی احتیاط برتی جا رہی ہے۔ قیادت کا ماننا ہے کہ کسی ایک وارڈ میں شکست مجموعی اقتدار کے حصول میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔کانگریس پارٹی میں اس بات پر بھی اندرونی بحث جاری ہے کہ حالیہ دنوں میں بی آر ایس سے کانگریس میں شامل ہونے والے بعض افراد کو ٹکٹ نہ دیا جائے تاہم بعض بااثر قائدین کو پارٹی میں شامل کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔عام انتخابات کے موقع پر پارٹی میں شامل ہونے والے ارکان بلدیہ کودوبارہ موقع دینے کا وعدہ تھا اور وہ امید بھی لگائے ہوئے ہیں جبکہ پارٹی کے سینئر رہنماؤں کا مطالبہ ہے کہ ٹکٹوں کی تقسیم میں دیرینہ اور وفادار کارکنوں کو ترجیح دی جائے۔قابلِ بات یہ ہے کہ نلگنڈہ میونسپل کارپوریشن کے تحت 12 سے زائد وارڈز میں مسلم آبادی اکثریت میں ہے جب کہ پانچ بلدی حلقوں میں مسلمان فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اگر مسلم ووٹرز منظم حکمتِ عملی کے ساتھ ووٹنگ کریں تو انتخابی نتائج پر نمایاں اثر مرتب ہو سکتا ہے۔مجموعی طور پر ضلع نلگنڈہ میں بلدی انتخابات کے حوالے سے سیاسی ماحول خاصا گرم ہو چکا ہے اور آئندہ دنوں میں ٹکٹوں کی تقسیم کے ساتھ سیاسی ہلچل اور سرگرمیوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔