نلگنڈہ میں بڑے پیمانے پر اعلیٰ افسران کے تبادلے

   

نئی ضلع کلکٹر ایلاترپاٹھی نے جائزہ لے لیا، ریاستی وزیر کے ینکٹ ریڈی سے ملاقات
نلگنڈ ہ۔29 اکٹوبر ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) ریاستی حکومت نے اچانک ضلع نظم و نسق میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کرتے ہوئے احکا ما ت جاری کیا ہے ۔ احکامات میں ضلع کلکٹر، ایڈیشنل کلکٹر، اسپیشل کلکٹر، ڈی۔آر۔او آر۔ڈی۔او شامل ہیں کہ فوری بعد ضلع کلکٹر کی حیثیت سے محترمہ ایلا ترپاٹھی نے متبادلہ کلکٹر سے جائزہ حاصل کر لیا ہے۔ریاستی حکومت نے ضلع انتظامیہ میں بڑی تبدیلی کی ہے۔ ضلع میں اہم محکموں کے افسران کے بڑے پیمانے پر تبادلے کیے گئے ہیں۔ ریاستی حکومت کی جانب سے کئے گئے تبادلوں میں نلگنڈہ کے ضلع کلکٹر سی۔نارائن ریڈی کو رنگاریڈی ضلع کلکٹر کے طور پر مقرر کیا گیا ہے۔ ان کی جگہ2017 ء کے آئی اے ایس بیاچ جو اس وقت ریاستی سیاحت کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں محترمہ ایلا ترپاٹھی کو حکومت نے نلگنڈہ کا کلکٹر مقرر کیا ہے۔ واضح رہے کہ مسٹر سی۔نارائن ریڈی نے 16/ جون کو ضلع نلگنڈہ کے کلکٹر کا عہدہ کا جائزہ لیا تھا وہ تقریباً 4 ماہ ضلع میں خدمات انجام دیا۔ محترمہ ترپاٹھی نے پیر کو رات میں ہی کلکٹر نارائن ریڈی سے جائزہ حاصل کرلیا۔ اسی طرح ڈسٹرکٹ لوکل باڈیز کے ایڈیشنل کلکٹر پورنا چندر نے گزشتہ 16 مارچ کو جائزہ حاصل کیاتھا کو بھی تلنگانہ اسٹیٹ ویکس بورڈ ٹریبونل کا رکن مقرر کیا گیا لیکن حکومت نے ان کی جگہ کسی کو بھی متعین نہیں کیا۔ اسپیشل ڈپٹی کلکٹر یونٹ 2 جے۔ سبرامنیم کا تبادلہ ونپرتی آر ڈی او کے طور پر کیا گیا لیکن ان کی جگہ کسی کی تقرری نہیں کی گئی۔ اسی طرح راجیہ لکشمی جنہوں نے 2 مارچ کو نلگنڈہ کے ڈی آر او کا چارج سنبھالا تھا کو ایچ ایم ڈی اے میں تبدیل کردیا گیا تھا۔ ان کی جگہ یادادری بھونگیر ضلع کے آر ڈی او پی۔ امریندر کا تقرر کیا گیا۔ نلگنڈہ آر ڈی او مسٹر روی کو ریاستی حکومت نے ورنگل اسپیشل کلکٹر پی اے مقرر کیا ہے اور ان کی جگہ ایچ ایم ڈی او آر آر اسپیشل کلکٹر پی اے وائی اشوک ریڈی کو آر۔ڈی۔او کی حیثیت سے مقرر کیا گیا۔ اسی طرح دیورکنڈہ آر ڈی او بی سری راملو گوداوری کھنی کو ایس او سی ایل اے میں تبادلہ کر دیا گیا اور ان کی جگہ ایس۔ رمنا ریڈی کا تبادلہ کیا گیا۔ ضلع کلکٹر محترمہ ترپاتھی نے آج ریاستی وزیر عمارت و شوارع مسٹر کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی کی رہائش گاہ پہنچکر ملاقات کی اس موقع پر ضلع مہتمم پولیس شرت چندرا پوار بھی موجود تھے۔