!نل میں قطرہ تک نہیں، ٹینکی سے پانی ٹپک رہا ہے

   

مشن بھگیرتا کے کاموں میں لاپرواہی، احتجاج کا انتباہ: مینارپلی موضع کے سرپنچ وینکٹ رام ریڈی کا بیان

کوہیر۔ ریاستی حکومت نے عوام کو پانی جیسی بنیادی اہم ضرورت کو پورا کرنے کے لئے مشن بھگیرتا پروگرام متعارف کرواتے ہوئے گھر گھر نل کنکشن دیتے ہوئے پانی سپلائی کرنے کا منصوبہ تیار کیا۔ اس پروگرام کے تحت کوہیر منڈل میں 21 کروڑ روپیہ خرچ کرتے ہوئے مشن بھگیرتا پروگرام کے 34 نئی پانی کی ٹانکیاں تعمیر کی گئیں اور اس منصوبہ کے تحت موضع منیار پلی میں بھی ایک پانی کی ٹانکی تعمیر کی گئی لیکن آج تک اس ٹانکی کے ذریعہ موضع کی عوام کو ایک بوند پانی نہیں پہنچا۔ اس ضمن میں موضع منیار پلی کے سرپنچ وینکٹ رام ریڈی نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ریاست تلنگانہ2017 میں مشن بھگیرتا پروگرام کا آغاز کیا لیکن آج تقریباً چار سال کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن ہمارے گاؤں کی عوام کو پانی نہیں پہنچا۔ اس کی اہم وجہ سرکاری عہدیداروں کی لاپرواہی ہے۔ کوہیر منڈل کے دیگر مواضعات میں کچھ پانی پہنچ گیا ، متعلقہ عہدیداروں سے دریافت کرنے پر بتاتے ہیں کہ پائپ لائن کا کام جاری ہے۔ بہت جلد پانی آجائے گا۔ موضع بلال پور میں بڑی لائن کا کام جاری ہے جہاں پر لکیج ہے وہاں پر کھدائی کرکے چھوڑ دیا گیا ہے۔ کئی دنوں سے وہاں پر کام کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ وینکٹ رام ریڈی نے مزید بتایا کہ ہمارے گاؤں میں ایک واٹر ٹینک تعمیر کی گئی ہے ، تعمیراتی کام کی تکمیل ہونے پر اس ٹانکی کوٹسٹ کرنے کیلئے پانی بھرا گیا تو ٹانکی میں سے پانی ٹپک رہا ہے۔ ماہرین سے وجہ معلوم کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ تعمیراتی کاموںمیں ناقص اشیاء سمنٹ ، ریت اور تعمیری کام کے بعد کیورنگ نہیں کی گئی جس کی وجہ سے پانی ٹپک رہا ہے۔سرپنچ وینکٹ رام ریڈی نے بتایا کہ موضع منیار پلی ایک کثیر آبادی والا گاؤں ہے جہاں پر ایک تانڈہ بھی ہے جہاں عوام کو پانی سپلائی کرنے کا واحد ذریعہ صرف بورویلس ہیں۔ حکومت سے آنے والا بجٹ اور گرام پنچایت کی آمدنی برقی بلز ادا کرنے میں ختم ہورہا ہے۔ فوری طور پر مشن بھگیرتا کا پانی سپلائی کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں تاکہ گرام پنچایت سنگل فیس اور تھری فیس واٹر پمپ کو بند کرسکیں ورنہ متعلقہ محکمہ کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کیا جائے گا۔