نمائش کیلئے جی ایچ ایم سی لے آؤٹ حاصل نہیں کیا گیا!

   

ہائیکورٹ احکامات کی خلاف ورزی کے مترادف: وکیل
حیدرآباد۔/16 فروری، ( سیاست نیوز) نمائش 2022 کے دوبارہ آغاز کی تیاریوں کے پیش نظر شہر کے ایک وکیل نے مختلف محکمہ جات بشمول کمشنر جی ایچ ایم سی کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے کہا کہ نمائش کے دوبارہ آغاز کیلئے جی ایچ ایم سی کا لے آؤٹ پلان لازمی طور پر حاصل کیا جائے ورنہ نمائش کی اجازت نہ دی جائے۔ ہائی کورٹ کے وکیل خواجہ اعجاز الدین نے محکمہ فائر، پولیس اور جی ایچ ایم سی کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے کہا کہ 4 جنوری کو تلنگانہ ہائی کورٹ نے ان کی جانب سے داخل کی گئی درخواست مفاد عامہ پر احکامات جاری کرتے ہوئے نمائش سوسائٹی کو مختلف محکمہ جات سے اجازت نامے یقینی طور پر حاصل کرنے کیلئے کہا تھا۔ مکتوب میں یہ بھی بتایا گیا کہ نمائش سوسائٹی نے جی ایچ ایم سی ایکٹ 1955 کے تحت اسٹالس کے قیام کیلئے لے آؤٹ پلان کی منظوری حاصل نہیں کی ہے جو قانون اور ہائی کورٹ کے احکامات کے خلاف ہے۔ کورونا وائرس کے اومی کرون ویرینٹ کے کیسس میں انتہائی کمی کے باعث نمائش سوسائٹی نے25 فروری سے 81 ویں نمائش کے دوبارہ آغاز کا اعلان کیا۔ وکیل نے بتایا کہ اس نمائش کیلئے جی ایچ ایم سی کا لے آؤٹ پلان لازم ہے اور نمائش سوسائٹی کو لازمی طور پر حاصل کرنا چاہیئے ورنہ کمشنر جی ایچ ایم سی کی جانب سے اس اہم نکتہ کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ تحقیر عدالت کے مترادف ہوگا۔ مکتوب میں پولیس کمشنر حیدرآباد سے بھی درخواست کی گئی کہ جی ایچ ایم سی کی جانب سے اسٹالس کے قیام کی اجازت حاصل نہ کرنے پر پولیس بھی نمائش کے انعقاد کی اجازت نہ دے۔واضح رہے کہ نمائش کا یکم جنوری کو آغاز ہوا تھا لیکن اومی کرون کے کیسس میں بے تحاشہ اضافہ کے نتیجہ میں حکومت نے ایک جی او جاری کرتے ہوئے عوامی مقامات پر اجتماع یا کثیر تعداد میں جمع ہونے پر پابندی عائد کی تھی جس کے پیش نظر نمائش کو غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردیا گیا تھا۔ب