بصورت دیگر نمائش کی اجازت نہ دینے کا انتباہ ۔ مفاد عامہ درخواست پر ہائیکورٹ کے احکام
حیدرآباد ۔2 ۔ڈسمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے نمائش 2020 ء کے انعقاد کیلئے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے نمائش سوسائٹی اور دیگر ذمہ داران سے کہا کہ وہ متعلقہ محکمہ جات سے نو آبجیکشن سرٹیفکٹ (NOC) حاصل کریں ورنہ نمائش کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ چیف جسٹس راگھویندر سنگھ چوہان نے آج مفاد عامہ کی درخواست پر سماعت کے دوران کہا کہ کمشنر حیدرآباد کی جانب سے تفصیلی جوابی حلفنامہ داخل کیا گیا ہے لیکن عدالت کا یہ خیال ہے کہ ناگہانی صورتحال میں محفوظ طور پر بچ نکلنے مقامات کی نشاندہی کی جائے اور ایسی جگہ مختص کرے تاکہ ہجوم کو آسانی سے باہر نکالا جاسکے ۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ نمائش سوسائٹی و دیگر فریقین بشمول محکمہ فائر، جی ایچ ایم سی ، الیکٹریکل ڈپارٹمنٹ ، حیدرآباد واٹر ورکس اور دیگر محکمہ جات این او سی کی اجرائی سے متعلق تمام تفصیلات سے عدالت میں پیش کریں۔ فریقین ان نکات کے بارے میں بھی عدالت کو واقف کروائیں جن کی بنیاد پر این او سی کی اجرائی عمل میں لائی گئی ہے۔ چیف جسٹس نے اپنے احکام میں یہ واضح طور پر کہا کہ اگر نمائش سوسائٹی مختلف محکمہ جات سے نو آبجیکشن سرٹیفکٹ حاصل کرنے میں ناکام ہوتی ہے تو یکم جنوری 2020 ء سے آغاز ہونے والی نمائش کے انعقاد کیلئے اجازت نہیں دی جائے گی۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میں یہ بھی کہا کہ اگر نمائش سوسائٹی نمائش کے انعقاد کیلئے ابھی سے ہی تیاریاں شروع کرتی ہے تو عدالت 50 کروڑ روپئے بطور ضمانت جمع کرانے کے بھی احکامات جاری کرسکتی ہے۔ نمائش 2019 ء میں مہب آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں کروڑہا روپئے مالیتی مال کا نقصان ہوا تھا اور سینکڑوں اسٹالس جل کر خاکستر ہوگئے تھے۔ بین ریاستی تاجرین کو زبردست نقصان ہوا تھا۔ لیکن آتشزدگی کے کچھ ہی دنوں بعد بغیر کوئی احتیاطی اقدامات کے نمائش کا دوبارہ آغاز کردیا گیا تھا جس کے خلاف ہائی کورٹ کے وکیل خواجہ اعجاز الدین نے مفاد عامہ کے تحت درخواست داخل کی تھی اور بغیر این او سی نمائش کے انعقاد پر پابندی عائد کرنے کا استدلال پیش کیا تھا ۔