حیدرآباد۔ منتخب خاتون کارپوریٹرس کو اب سرگرم کردار اداکرنا پڑے گا کیونکہ محکمہ بلدی نظم و نسق سے جلد ہی نمائندہ کارپوریٹر کلچر کو ختم کرنے احکام کی اجرائی کا امکان ہے ۔ حکام نے بتایا کہ بلدیہ میں خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کا مقصدان کی ترقی کو یقینی بنانا ہے لیکن بلا تفریق سیاسی جماعت بیشتر جماعتوں کے خاتون اراکین ‘انتخاب بلکہ رائے دہی اور رائے شماری تک ہی رکن بلدیہ ہوتی ہیں اور اس کے بعد ان کے شوہر ‘ بھائی ‘ بیٹا یا والد نمائندہ کے طور پر کام کرتے ہیں لیکن اب ایسا نہیں ہوگا اور خاتون ارکان بلدیہ کو عملی میدان میں آنا پڑے گا۔ مختلف نمائندگیوں کا جائزہ لینے کے بعد یہ اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔ کہا جار ہاہے کہ حکومت نے منتخبہ خاتون کارپوریٹرس کو سرگرم بنانے نمائندہ کارپوریٹرکلچر کے خاتمہ کیلئے واضح اور سخت احکامات کی اجرائی کی منصوبہ بندی شروع کردی ہے۔ خواتین کے حقوق کے تحفظ کی تنظیموں کی نمائندگیوں کے علاوہ عدالت سے رجوع ہونے کا بھی انتباہ دیا گیا ہے جس کے سبب محکمہ کی جانب سے منتخبہ کارپوریٹرس کو سرگرم کرنے اور نمائندہ کو روکنے یہ منصوبہ تیار کیا جا رہاہے۔