نمائندہ کارپوریٹر کلچر کو ختم کر کے خواتین کو با اختیار بنانے کی تجویز

   


منتخب کارپوریٹرس کی برائے نام کارکردگی کے بجائے عملی میدان میں سرگرم عمل بنانے پر غور
حیدرآباد۔ تلنگانہ حکومت کے محکمہ بلدی نظم و نسق کی جانب سے ’’نمائندہ کارپوریٹر‘‘ کلچر کے خاتمہ کے سلسلہ میں خصوصی احکامات کی اجرائی عمل میں لائی جائے گی اور خواتین کو بااختیار بنانے کی غرض سے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد میں انہیں فراہم کئے گئے تحفظات کے ثمرات سے راست انہیں استفادہ کرنے اور عوام کے درمیان رہنے کے لئے تیار کیا جائے گا ۔ شہر حیدرآباد کے بلدی انتخابات میں جملہ 79 خواتین کارپوریٹرس منتخب ہوئی ہیں لیکن ان میں بڑی تعداد کا تعلق صرف انتخابی پرچۂ نامزدگی اور انتخابات کے نتائج کی حد تک ہی رہا اور اب نمائندہ کارپوریٹرس جو منتخبہ کارپوریٹرس کے شوہر‘ بھائی ‘ والد یا بیٹا ہیں وہ سرگرم ہوچکے ہیں اور ان کی جانب سے عہدیداروں سے رابطہ قائم کئے جانے کے بعد بلدی عہدیداروں نے اعلی عہدیداروں کو صورتحال سے واقف کرواتے ہوئے کہا کہ ابتداء میں ہی اگر نمائندہ کارپوریٹرکلچر کو نہیں روکا گیا تو آئندہ کئی مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ عہدیدارو ںکی جانب سے شکایات کی وصولی کے بعد محکمہ بلدی نظم ونسق کی جانب سے شہر حیدرآباد کے تمام منتخبہ کارپوریٹرس کو عوام کے درمیان رہنے اور کسی بھی کام کی صورت میں اپنے نمائندوں کے بجائے خود رابطہ قائم کرنے کی تاکید کی جائے گی اور نمائندہ کارپوریٹر کلچر کو ختم کرنے کے سلسلہ میں خصوصی احکامات کی اجرائی کے سلسلہ میں جائزہ لیا جارہا ہے۔ موجودہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے منتخبہ کارپوریٹرس کی جگہ نمائندہ کارپوریٹرس کی جانب سے مکمل سرگرمیاں انجام دیئے جانے کے علاوہ منتخبہ خواتین کارپوریٹرس کی جانب سے پروگرامس میں عدم شرکت اور پروگرامس میں بھی نمائندوں کو روانہ کرنے کے معاملہ میں ہنگامہ آرائی ہوچکی ہے لیکن اب عہدیداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ کونسل جس کی معیاد ابھی باقی ہے اس میں اپوزیشن کمزور ہونے کے سبب کسی بھی گوشہ سے کوئی آواز نہیں اٹھائی گئی تھی لیکن اب جبکہ تمام سیاسی جماعتو ںکا موقف مستحکم ہے اور ایسے میں نمائندہ کارپوریٹرس کا مسئلہ شدت اختیار کرسکتا ہے اسی لئے عہدیداروں نے محکمہ بلدی نظم و نسق سے خواہش کی ہے کہ اس مسئلہ کو 12 فروری سے قبل ہی حل کرتے ہوئے نمائندہ کارپوریٹر کلچر کے خاتمہ کے سلسلہ میں باضابطہ احکامات کی اجرائی عمل میں لائی جائے ۔