ائمہ و موذنین کو 50 تا 55 ہزار روپئے تنخواہ دیں ، مسجد کی افتتاحی تقریب سے علماء کا خطاب
ظہیرآباد ۔27 فبروری ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) مولانا احمد عبیدالرحمٰن ندوی حیدرآباد نے مسجد حنیف باسط ( حنیف نگر ) ظہیرآباد کی رسم افتتاح انجام دینے کے بعد شرکا ء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسجدوں کی تعمیر صرف اللہ تعالی کی رضا ء اور خوشنودی کے لئے ہونا چاہیے ۔ مسجدوں کی تعمیر سے پہلے پہلے اپنی نمازوں کی اصلاح کر لیں اور قرآن مجید صحیح طور پر سیکھ لیں ۔ مفتی عبدالصبور قاسمی نے تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ جناب محمد سلیم مرحوم نے اپنے والد جناب محمد حنیف مرحوم کے ایصال ثواب کے لئے اس زمین کو مسجد کے لئے وقف کیا اور جناب عبدالحسیب نے اپنے والد جناب عبدالباسط مرحوم کے ایصال ثواب کے لئے اس مسجد کی تعمیر کی، لہذا اس مسجد کا نام مسجد حنیف باسط رکھا گیا ۔ بعد ازاں مفتی نذیر احمد حسامی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اذان ، اقامت اور امامت کی تصحیح اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک کہ تنخواہوں کی تصحیح نہ ہو جائے۔ امام اور مؤذن کو تقریباً 50 اور 55 ہزار روپے بطور تنخواہ دی جائے اور ان سے نہ صرف امامت اور اذان بلکہ مسجد کی تمام خدمت جیسے مکتب مدرسہ ، دعوتی اور تبلیغی محنت ، اذان ، نماز جنازہ اور اس طرح مسجد سے متعلق اہم کاموں کی خدمت لی جائے ۔ اتنی بھرپور تنخواہیں دی جائیں کہ لوگ سوچنے پر مجبور ہو جائیں کہ ہم اپنے بچوں کو ڈاکٹر بنائیں یا پھر عالم اور حافظ۔ مولانا عبدالمجیب قاسمی نے بھی کہا کہ آج کل ریاکاری اس حد تک ہو چکی ہے کہ لوگ مسجدوں میں تعاون اسی وقت کر رہے ہیں جب کہ اُن کے یا اُن کے عزیز و اقارب کے نام پر مسجدوں کا نام رکھا جائے، ایسی ریاکاری سے ہمیں بچنا چاہیے ۔ مفتی خلیل احمد قاسمی اور مولانا شفیع قاسمی نے جلسے کی کاروائی چلائی ۔ قاری عبداللہ کلیمی کی قرات سے جلسے کا آغاز ہوا ۔ محترم محمد آصف اور محترم محمد عقیل ایڈوکیٹ نے سامعین کا شکریہ ادا کیا ۔ محترم محمد احمد ، محترم محمد محبوب ، محترم محمد حافظ رفیق نے انتظامات میں حصہ لیا اور مہمانوں کی شال پوشی کی۔ محترم محمد شیخ فرید الدین نے بھی شال پوشی کی۔ اس موقع پر مولانا محمد حمایت رشادی ، محترم محمد ماجد ، محترم محمد فصیح الدین ، یوسف بھائی ، مقبول بھائی ء نثار احمد ، معین بھائی ، محبوب غوری اور دیگر موجود تھے ۔
