نماز عیدالفطر مقامی مساجد میںا دا کی جائے: محمود علی

,

   

عید گاہوں میں انتظام نہیں رہے گا۔ ہر مسجد میں زائد جماعت کے اہتمام کا مشورہ
شب قدر کی عبادات بھی گھر میں کرنے کی اپیل

حیدرآباد۔ تلنگانہ میں کورونا پر قابو پانے حکومت نے تحدیدات پر سختی سے عمل آوری کا فیصلہ کیا ہے۔ عیدالفطر کے موقع پر عید گاہوں میں نماز عید کی ادائیگی کی اجازت نہیں رہے گی اور مسلمانوں سے اپیل کی گئی ہے کہ گھر کے قریب کی مساجد میں سماجی فاصلہ کے ساتھ نماز عید الفطر کا اہتمام کریں۔ وزیر داخلہ محمد محمود علی نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مصلیوں کی کثرت کو دیکھتے ہوئے مساجد میں مختلف اوقات میں ایک سے زائد جماعتوں کا اہتمام کیا جاسکتا ہے۔ علماء کرام نے ایک مسجد میں علحدہ وقت پر زائد نماز عید کے اہتمام کی اجازت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال کی طرح اس سال بھی عید گاہوں پر نماز عید کے انتظامات نہیں کئے جائیں گے۔ انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ کورونا کے خاتمہ کیلئے حکومت سے مکمل تعاون کریں۔ مساجد پر مصلی ماسک کا لازمی طور پر استعمال کریں، سینٹائزر کے استعمال کے ساتھ صفوں میں سماجی فاصلہ برقرار رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کا خاتمہ صرف احتیاطی تدابیر سے ممکن ہے۔ کورونا کا خاتمہ عوام کے ہاتھ میں ہے جس قدر احتیاط کی جائے گی اس قدر جلد کورونا سے نجات ملے گی۔ محمود علی نے کہا کہ کورونا نے نہ صرف عوام بلکہ حکومت کی معیشت کو بھی متاثر کیا ہے۔ حکومت کو ٹیکسوں کے ذریعہ آمدنی میں کمی آئی ہے ۔ ایسے میں فلاحی اور ترقیاتی اسکیمات پر عمل آوری کیسے ہوپائے گی۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ عدالت کے احکامات کے تحت ملک میں سیاسی، سماجی اور دیگر اجتماعات پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ شادی بیاہ اور تدفین کے موقع پر بھی محدود تعداد کو اجازت رہے گی۔ شادی میں 100اور تدفین میں 20 افراد کی اجازت ہوگی۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ تلنگانہ میں کورونا کی صورتحال قابو میں ہے۔ دیگر ریاستوں کے مقابلہ تلنگانہ میں کیسس کی تعداد کم ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ویکسین حاصل کریں جوبچاؤ کا اہم ذریعہ ہے۔ مرکز سے زائد ویکسین کے حصول کی مساعی جاری ہے۔ دواخانوں میں آکسیجن کی قلت پر قابو پالیا گیا اور بستروں کی تعداد میں اضافہ کیا جارہا ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور تلنگانہ کو کورونا سے نجات دلانے ہر ممکن قدم اٹھارہے ہیں۔ محمود علی نے کہا کہ رمضان المبارک کی طاق راتوں میں خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا جائے۔ شب قدر کے موقع پر مساجد کے بجائے گھروں میں نمازوں اور دیگر عبادات کا اہتمام کیا جائے۔