نئی دہلی ، 12 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) نرموہی اکھاڑہ کے اس دعوے کو کہ مسلمان ایودھیا میں متنازعہ اراضی کے جائز مالک نہیں ہوسکتے کیونکہ وہ وہاں 1934ء سے 1949ء تک باقاعدگی سے نماز ادا نہیں کررہے تھے، مسلم اداروں نے جمعرات کو سپریم کورٹ میں بکواس قرار دیتے ہوئے کہا کہ غیرقانونی حرکتوں کے فوائد کا جواز پیدا نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اکھاڑہ جسے الہ آباد ہائی کورٹ نے متنازعہ 2.77 ایکڑ رام جنم بھومی۔ بابری مسجد اراضی کا ایک تہائی عطا کیا تھا، اُس نے پانچ ججوں کی دستوری بنچ کو بتایا کہ اس کا قبضہ ’’خالص‘‘ ہے کیونکہ 1934ء فسادات کے بعد 1949ء تک مسلمانوں کو صرف نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت دی گئی اور وہ بھی پولیس پروٹیکشن کے تحت۔ سینئر ایڈوکیٹ راجیو دھون نے سنی وقف بورڈ اور دیگر کی پیروی کرتے ہوئے اکھاڑہ کے دعوے کو رد کردیا اور کہا کہ مسلمانوں نے نماز اس لئے نہیں پڑھی کیونکہ انھیں پڑھنے نہیں دیا گیا۔ دھون نے 6 ڈسمبر 1992ء کو متنازعہ ڈھانچہ کے انہدام کا حوالہ دیا اور کہا کہ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ بعض ’’شرپسندوں‘‘ نے یہ کام کیا۔