نمس کا حال:ایک مرض کا علاج۔ دوسرے مرض کو دعوت

   

Ferty9 Clinic

حیدرآباد ۔ 17 اگست (سیاست نیوز) کورونا کی شدت میں کمی کے باوجود ہاسپٹلس سے رجوع ہونے والے شہریوں میں خوف کم نہیں ہوا۔ تمام تر احتیاطی اقدامات کے باوجود ہاسپٹلس سے رجوع ہونے والے شہریوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ پنجہ گٹہ نمس ہاسپٹل میں ڈائیلاسیس کے مریض اس معاملہ میں بہت زیادہ تشویش کا شکار ہیں۔ اسی وارڈ سے متصل کووڈ وارڈ کے سبب مریضوں میں خوف پایا جاتا ہے۔ ہاسپٹل کی پرانی عمارت کے اولڈ آئی سی یو میں ڈائیلاسیس کی خدمات انجام دی جارہی ہیں۔ اس وارڈ کے ذریعہ ہزاروں مریض مستفید ہوئے۔ اس وارڈ سے متصل کووڈ ایڈمیشن روم پایا جاتا ہے جس کے سبب کووڈ کے علاج کے لئے آنے والے مریض ڈائیلاسیس وارڈ کے سامنے انتظام کرتے ہیں۔ اور ان مریضوں کا انتظار دوسرے مریضوں کے لئے خوف کا سبب بنا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ مریضوں کے ہمراہ آنے والے شہریوں کو بھی وائرس کا خوف پریشان کررہا ہے۔ اکثر کووڈ کے مریض بھی انہیں کرسیوں پر بیٹھتے ہیں جہاں عام شہری و دیگر امراض کا شکار مریض بیٹھتے ہیں۔ جس کے سبب عام شہریوں میں وائرس سے متاثر ہونے کا خطرہ اور خوف بڑھ گیا ہے۔ ان حالات میں ایک مرض کے علاج کے لئے ہاسپٹل پہنچنے والے مریضوں کو دوسرے امراض کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ہاسپٹل انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت اور لاپرواہی کے سبب خطرناک نتائج آمد کے منتظر ہیں۔ کووڈ مریضوں کے لئے علیحدہ مقام اور وارڈ کو مقرر کرنے سے ایسے خطرات سے کافی حد تک بچا جاسکتا ہے لیکن ہاسپٹل انتظامیہ کی جانب عدم توجہ ان کی مجرمانہ غفلت کو آشکار کررہا ہے۔ کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے سماجی فاصلہ اور احتیاط کو اولین ترجیح دینے کی دہائی دینے والے ہاسپٹل ہی میں لاپرواہی کی جارہی ہے۔ ڈائیلاسیس کے مریضوں اور ان کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ کووڈ سے احتیاط کو علاج قرار دینے والے ہاسپٹلس ہی لاپرواہی کرتے ہوئے مریوں کو جان بوجھ کر بیماری کے دلدل میں ڈھکیل رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وارڈ کی عدم کشادگی بھی خوف کا سبب بن گئی ہے جبکہ اس راستہ ہی میں ایم آر آئی سی ٹی اسکین، آروگیہ شری سے فائدہ حاصل کرنے والے مریض بھی انہی راستہ پر انحصار رکھتے ہیں۔ کووڈ متاثرین کو ایڈمیشن کے لئے بھی اسی راستہ پر طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔ A