مایا ناز انجینئر کی یوم پیدائش پر آج انجینئرس ڈے تقریب
( سریدھر راؤ دیشپانڈے )
حیدرآباد :۔ نواب علی نواز جنگ بہادر تلنگانہ کے ایک عظیم انجینئر رہے ہیں انہوں نے نہ صرف حیدرآباد بلکہ ملک گیر سطح پر اپنی فنی مہارت کے ذریعہ شہرت حاصل کی تھی ۔ ان کے نام کے بازو ایف سی ایچ تحریر رہتا تھا ۔ 1850 میں برٹش نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے تحت تجارت کی غرض سے ہندوستان میں قدم جمایا ، جس کے بعد متعدد سلطنتوں پر اپنا سیاسی قبضہ جمایا تھا ۔ ان کے دور حکومت میں ملٹری ، ریلوے ، سڑکیں اور عمارتوں کی تعمیر عمل میں لانے کے لیے 1854 میں برٹش حکومت کو قائم کیا ۔ اس وقت ان تعمیرات کے لیے انجینئرس کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی تھی ۔ عوامی ضروریات کی تکمیل کے لیے انجینئرس کی تربیت کرنے کے لیے رائل انڈین انجینئرنگ کالج کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ اس کالج میں یوروپین طلبہ کے علاوہ برٹش اور دیگر ممالک سے ذہین طلبہ کا انتخاب کیا جاتا تھا ۔ نظام دور حکومت میں کوپر ہلز کالج سے بھی طلبہ کو منتخب کر کے انہیں سرکاری سطح پر اسکالر شپس دی جاتی تھی ۔ ان منتخب طلبہ میں میر علی احمد ( علی نواز جنگ بہادر ) کو حیدرآباد سے منتخب کر کے 1896 میں انگلینڈ کو رائل انڈین انجینئرنگ میں حصول تعلیم کے لیے روانہ کیا گیا تھا ۔ کوپر ہلز کالج کے فارغین کے نام کے ساتھ FCH لگایا جاتا تھا جس کا مطلب Fellow of Cooper Hills ہے ۔ علی نواز جنگ 11 جولائی 1877 کو حیدرآباد میں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے حمایت ساگر ، عثمان ساگر ، قانون ساز اسمبلی کی عمارت ، جوبلی ہال ، آرٹس کالج ، عثمانیہ یونیورسٹی ، حیدرآباد ہاوز ( دہلی ) ، نظام ساگر ، علی ساگر پوچم پاڈ ، عثمانیہ جنرل ہاسپٹل ، چارمینار ہاسپٹل اور دیگر عمارتوں کی تعمیر کے لیے اپنی نگرانی میں شاندار ڈیزائن تیار کروایا ۔ انہوں نے سال 1899 میں انگلینڈ میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بعد واپس ہوئے اور سال 1918 میں چیف انجینئر کے عہدہ پر ترقی حاصل کی ۔ ان کی یوم پیدائش کے موقع پر ہر سال 11 جولائی کو انجینئرس ڈے تقاریب منعقد کی جاتی ہیں ۔ جس کا مقصد ان کے تاریخی کارناموں ، فنی مہارت اور کی گرانقدر خدمات کو خراج پیش کرتا ہے ۔۔