ممبئی : نارکوٹکس کنٹرول بیورو کے زونل ڈائریکٹر سمیر وانکھیڈے کی بڑی بہن یاسمین وانکھیڈے نے ممبئی کی مقامی اندھیری عدالت میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے رہنما اور ریاستی کابینہ کے وزیر نواب ملک کے خلاف سوشل میڈیا اور ٹیلی ویژن انٹرویوز پر ان کیخلاف ہتک آمیز بیانات دینے پر مجرمانہ ہتک عزت کا مقدمہ درج کیا ہے۔پیشے سے وکیل یاسمین وانکھیڈے نے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ وہ مختلف غیر سرکاری تنظیموں سے وابستہ ہیں اور غریبوں کے لیے کام کرتی ہیں۔ نیز وہ شیوسینا کی فلمی ذیلی یونین چترپٹ سینا کی صدر بھی ہے اور مراٹھی فلمی صنعت سے وابستہ فنکاروں اور روزانہ کام کرنے والے مزدوروں کے مسائل اور شکایات کو دور کرتی ہیں۔ شکایت میں یاسمین نے عدالت کو بتایا کہ نواب ملک کی جانب سے ہتک عزت کلمات سے نوازے جانے کے بعد ان کی شبیہ لوگوں کی نظروں میں متاثر ہوئی ہے اور اسے غیر ضروری بحث کا موضوع بنایا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک نے انکے بھائی سمیر کے خلاف منشیات کے معاملے میں انکے داماد کے خلاف کارروائی کرنے پر ذاتی رنجش کی وجہ سے اس پر اور اس کے خاندان کے افراد کے خلاف جھوٹے اور ہتک آمیز الزامات لگانا شروع کردیئے۔ نیز انہوں نے ٹویٹس کی ایک سیریز میں کہا کہ ایک فلیچر پٹیل نامی شخص سے انکے ذاتی مراسم ہے اوروہ اسکے ساتھ ملکر بالی ووڈ میں غیر قانونی کاروبار میں ملوث ہیں۔
شیکایت کنندہ یاسمین نے نواب ملک پر یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ سوشل میڑیا پر وزیر نے ، اسے بار بار ’لیڈی ڈان‘کے خطاب سے نوازاہے ۔عدالت کو مزید بتلایا گیا کہ۔ اس کی ایک اور تصویر ملک کی طرف سے شائع کی گئی تھی جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ وہ مالدیپ کے دورے کے دوران ہفتہ وصولی میں ملوث تھی۔ انہوں نے کہا کہ ملک نے ایک واٹس ایپ چیٹ اسکرین شاٹ بھی شیئر کیا تھا جس میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ اس نے ایک ڈیلر کے ساتھ منشیات کی چیٹ کی تھی۔اس معاملے کی سماعت 25 فروری کو متوقع ہے ۔