نواحی علاقوں کی ترقی پر حیدرآباد کو عالمی معیار کا شہر ہونے کا دعویٰ

   

گنجان آبادی والے پرانے شہر کے علاقے سہولتوں سے محروم ، عوام کی مشکلات میں اضافہ
حیدرآباد۔22۔جون(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کے حیدرآباد کی ترقی کے نام پر شہر کے نواحی علاقوں کو ترقی دیتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ ریاستی حکومت شہر حیدرآباد کو عالمی معیار کے شہر میں تبدیل کرنے کے اقدامات کر رہی ہے جبکہ شہر حیدرآباد کے حدود میں گنجان آبادی والے پرانے شہر کے علاقوں میں سہولتوں کو بہتر بنانے کے معاملہ میں حکومت کی جانب سے اقدامات نہ کئے جانے کے نتیجہ میں پرانے شہر کی حالت مزید ابتر ہوچکی ہے اور شہر کے کئی علاقوں میں بنیادی سہولتوں کی عدم موجودگی پرانے شہر کے عوام کی مشکلات میں اضافہ کا سبب بن رہی ہے۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے شہر کے 4 سمتوں میں ملٹی اسپشالیٹی دواخانوں کے قیام کا اعلان کیا گیا تھا جس میں چیسٹ ہاسپٹل ‘ گڈی انارم‘ الوال اور گچی باؤلی میں ہاسپٹلس کے قیام کا منصوبہ شامل تھا اور آج چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے شہر کے نواحی علاقہ پٹن چیروو میں سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹل کا سنگ بنیاد رکھا لیکن عثمانیہ دواخانہ کی تزئین نو اور دواخانہ کے احاطہ میں ہمہ منزلہ سوپراسپیشالیٹی ہاسپٹل کی تعمیر کے سنگ بنیاد کے متعلق گذشتہ 7برسوں سے منصوبہ کی تیاری کا اعلان کیا جا رہاہے لیکن اس میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی جبکہ عثمانیہ دواخانہ شہر حیدرآباد کے علاوہ پڑوسی ریاستوں کرناٹک اور آندھراپردیش کے مریضوں کو بھی اعلیٰ معیاری علاج کی سہولتیں فراہم کرنے والے دواخانوں میں شمار کیا جاتا ہے لیکن جولائی 2015میں چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ نے دواخانہ عثمانیہ کا دورہ کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ حکومت دواخانہ عثمانیہ کو ترقی دینے کے اقدامات کرے گی اور موجودہ تاریخی عمارت کے طرز پر ہی نئی عمارت کی تعمیر کے منصوبہ کا اعلان کیا گیا تھا لیکن 2015 میں کئے گئے اس اعلان پر اب تک عمل آوری نہیں ہوئی بلکہ اس کے بعد سال 2021میں ریاستی حکومت نے کابینہ میں 4 نئے ملٹی سوپر اسپیشالیٹی دواخانوں کے قیام کا اعلان کیا ان میں بھی دواخانہ عثمانیہ کو شامل نہیں کیا گیا۔ دواخانہ عثمانیہ کی جگہ نئی عمارت کی تعمیر اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے اقدامات کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں پرانے شہر کی گنجان آبادی کو معیاری طبی سہولتوں کی فراہمی میں اہم پیشرفت حاصل ہوسکتی ہے لیکن متعدد مرتبہ متوجہ کروانے کے باوجود اس دواخانہ کے ساتھ حکومت کے سلوک سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاستی حکومت دواخانہ عثمانیہ کے منہدم ہونے کا انتظار کر رہی ہے کیونکہ سابق میں دواخانہ عثمانیہ کی تاریخی عمارت کو مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے مخدوش قرار دیتے ہوئے نوٹس بھی جاری کی گئی تھی اور محکمہ صحت اور محکمہ بلدی نظم و نسق نے اس کا جائزہ لینے کے بعد فوری طور پر نئی عمارت کے تعمیری کاموں کے آغاز کا منصوبہ تیار کرنے اور کام شروع کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اب تک اس سلسلہ میں کوئی پیشرفت نہیں ہوپائی ہے اور نہ ہی حکومت نے اس مقصد کے لئے کوئی بجٹ مختص کیا ہے بلکہ دواخانہ عثمانیہ کی جدید کاری اور اس میں اضافی سہولتوں کی فراہمی کو نظرانداز کرتے ہوئے چند ہفتہ قبل نمس دواخانہ کے توسیعی کاموں کا آغاز کیا گیا اور سنگ بنیاد رکھتے ہوئے اس نیم سرکاری دواخانہ کو ترقی دینے کے اقدامات شروع کردیئے گئے ہیں اور آج پٹن چیروو کے علاقہ میں ایک اور دواخانہ کا سنگ بنیاد رکھا جاچکا ہے۔م