نواز شریف کو متنازعہ ویڈیو کی بنیاد پر راحت دینے کا اختیار صرف ہائیکورٹ کو

   

Ferty9 Clinic

اسلام آباد ۔ 23 اگست (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کی سپریم کورٹ نے انسداد رشوت ستانی کے سابق جج ارشد ملک پر شدید تنقیدیں کیں جنہیں نواز شریف کی سزاء سے متعلق منظرعام پر آنے والے ایک ویڈیو کی بنیاد پر برطرف کردیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ صرف اسلام آباد ہائیکورٹ ہی اس بات کا فیصلہ کرسکتا ہے کہ ویڈیو کے متنازعہ مواد کو بنیاد بنا کر جیل کی سزاء کاٹ رہے سابق وزیراعظم نواز شریف کو راحت دی جائے۔ اپیکس عدالت نے اپنا فیصلہ سناتے وقت اپنے اس مشاہدہ کو ملحوظ رکھا۔ ارشد ملک کے متنازعہ ویڈیو کے خلاف کچھ درخواستوں کا ادخال عمل میں آیا تھا جس نے نواز شریف کو العزیزیہ اسٹیل ملز بدعنوانی معاملہ میں گذشتہ سال 24 ڈسمبر کو سات سال کی سزائے قید سنائی تھی۔