پاکستان نے سابق وزیراعظم کو مفرور قرار دیا ، عمران خان کے مشیر شہزاد اکبر کا بیان
اسلام آباد: پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی جوابدہی اور اندرونی معاملوں کے مشیرشہزاد اکبر نے بتایا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف ایک بھگوڑا ہے اور ان کی حوالگی کے لئے حکومت نے برطانوی حکومت سے رابطہ کیا ہے ۔ شہزاد نے بتایا کہ مسٹر شریف نے دسمبر 2019 میں علاج کے لئے ضمانت لی تھی جس کی میعاد اب ختم ہوچکی ہے ۔پاکستانی اخبار ڈان نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ مسٹر شہزاد نے سنیچر کو لاہور میں نامہ نگاروں سے کہا کہ ‘‘حکومت ان کے (مسٹر نواز) کے ساتھ ایک بھگوڑے کی طرح رویہ اختیار کررہی ہے اور ان کے حوالگی کے سلسلے میں برطانوی حکومت سے درخواست کی جاچکی ہے ‘‘۔انہوں نے اشارہ دیا کہ مسٹر نواز شریف کی صحت پوری طرح سے ٹھیک ہے اوران کے خلاف کی گئی کارروائی کے ایک شخص پر کئے گئے حملے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ’’لندن کی سڑکوں پر ان کا (مسٹر نواز شریف) کا ٹہلنا عدالت کے منھ پر طمانچہ ہے اور حکومت اس کی اجازت نہیں دے سکتی۔ اس میں کچھ بھی ذاتی نہیں ہے ۔ ہم صرف قانون کو نافذ کرنے اور اس کی ضرورتوں کی تکمیل کرنے کی کوشش کررہے ہیں‘‘۔انہوں نے بتایا کہ حکومت مسٹر نواز شریف کے سلسلے میں نیشنل احتساب بیورو (این اے بی) میں اپیل کرے گی۔ این بی اے سے مسٹر نواز کی حوالگی کے ساتھ ساتھ مسٹر شہباز شریف کے ذریعہ اپنے بڑے بھائی کو علاج کے لئے پاکستان سے باہر بھیجنے کے لئے دی گئی گارنٹی کی اہلیت کی بھی جانچ کی جارہی ہے ، جنہوں نے علاج کے بعد مسٹر نواز کو پاکستان واپس لانے کی بات کہی تھی۔ پاکستان نے اپنے نوٹی فیکشن میں کہا ہے کہ ‘‘اقوام متحدہ کے چارٹر کے چیپٹر سات کے تحت سلامتی کونسل کی تجویز 2368 (2018) کو اپنا گیا ہے جس میں 18 اگست 2020 تک آئی ایس آئی ایل اور القاعدہ سینکشنز کمیٹی نے اپنی کچھ اندراج کو منظوری دے دی ہے جس میں جائیدادوں کو ضبط کرنے ، سفر پر پابندی اور متعین ہتھیاروں اور دہشت گردوں اور ان کی تنظیموں کی ایک فہرست دی گئی ہے ۔انڈرورلڈ ڈان داؤد جس پر ہندوستان میں دیگردہشت گردی کے حملوں کے علاوہ ممبئی میں1993 کے سلسلہ وار بم دھماکوں کا ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام ہے جو ہندوستان کی موسٹ وانٹیڈ کی فہرست میں چوٹی پر ہے لیکن پاکستان نے کبھی بھی داؤد کے اپنے یہاں چھپے رہنے کی بات قبول نہیں کی۔واضح رہے کہ پاکستانی حکومت نے سنیچر کو ملک میں موجود دہشت گردوں کی نئی فہرست جاری کی ہے جس میں انڈرورلڈ ڈان داؤد ابراہیم کا نام بھی شامل ہے ۔
رپورٹ کے مطابق پاکستانی حکومت نے 88 دہشت گردوں پر پابندی عائد کی ہے ۔ یہ پہلی مرتبہ ہے جب پاکستان نے سرکاری طور سے ایک سرکاری حکم میں یہ قبول کیا ہے کہ داؤد ابراہیم پاکستان میں موجود ہے ۔
