نوالنی کی موت کے بعد روس کے خلاف اضافی امریکی تعزیرات زیرغور

   

واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ وہ مقید روسی اپوزیشن لیڈر الیکس نوالنی کی جیل میں موت کے بعد ماسکو کے خلاف اضافی تعزیرات عائد کرنے پر غور کر رہے ہیں۔وائٹ ہاؤس میں بائیڈن نے رپورٹروں کو بتایا کہ ہم نے پہلے ہی ان پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں لیکن امریکہ مزید پابندیاں لگانا چاہتا ہے۔ وہ گزشتہ ہفتے پہلے ہی براہ راست روسی صدر ولادی میر پوٹن اور ان کے ساتھیوں کو نوالنی کی موت کا ذمہ دار ٹھیرا چکے ہیں۔نوالنی کی موت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب کہ بائیڈن یوکرین، اسرائیل اور تائیوان کیلئے 95 ارب ڈالر انٹرنیشنل سیکیورٹی اسسٹینس کا پیکیج کانگریس سے منظور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کی متعدد ریپبلیکن قانون ساز مخالفت کررہے ہیں۔دو جماعتی حمایت سے ڈیمو کریٹک کنٹرول والے سینیٹ نے اس پیکیج کی منظوری دے دی ہے۔ لیکن ایوان نمائندگان میں معمولی اکثریت والی ریپبلیکن پارٹی کے اسپیکر مائیک جانسن نے بل کو ووٹ کیلئے فلور پر جانے سے روک لیا ہے، جس کہ جزوی وجہ یہ ہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نئی امداد کے خلاف ہیں۔جانسن اس مسئلے پر بائیڈن سے ملاقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ صدر نے جو یوکرین کیلئے مزید امداد کے زبردست حامی ہیں، پیر کے روز کہا کہ وہ ایوان کے اسپیکر سے ملنے کیلئے تیار ہیں۔