ماضی میں 50 سال عمر کے لوگ مرض کا شکار ہوتے تھے ۔ فی الحال 20 سالہ نوجوان بھی مسائل سے دوچار
حیدرآباد 29 اپریل : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ میں گردے ناکارہ ہونے والے افراد کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے ۔ ماضی میں ذیابیطس اور خون کی کمی کی وجہ سے 50 تا 60 سال کی عمر میں گردے فیل ہونے سے عوام علاج کیلئے ہاسپٹل سے رجوع ہوا کرتے تھے ۔ لیکن اب 20 تا 30 سال عمر کے نوجوان اس مسئلہ سے ہاسپٹلس کا رخ کررہے ہیں ۔ یہ بات نمس ہاسپٹل کی جانب سے کی گئی تحقیق میں سامنے آئی ہے ۔ NIMS ہاسپٹل کئی بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مل کر گردے کے ناکارہ ہوجانے اور گردے کی دیگر بیماریوں ( CKD ) پر تحقیق کررہا ہے ۔ نمس کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ 10 سال پہلے اوسطاً ہر ماہ گردوں کے مسائل سے متعلق 5 تا 10 کیس سامنے آیا کرتے تھے ۔ فی الحال یہ تعداد 50 سے زیادہ ہوگئی ۔ سالانہ 3500 افراد کو ڈائیلائسیس کی نوبت آگئی ہے ۔ بدلتے طرز زندگی کی وجہ سے زیادہ لوگ ، خون کی کمی ، ہائی بلڈپریشر اور شوگر جیسی بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں ۔ ڈاکٹرس کا کہنا ہے کہ شوگر کے مریض جو اپنی دوائیں ٹھیک سے نہیں لیتے ان کے گردے تین سے چار سال میں مکمل خراب ہوجاتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگ شوگر کے مرض کے باوجود اس کو نظر انداز کررہے ہیں ۔ نمس ریسرچ میں پتہ چلا ہے کہ شہری علاقوں میں کام کے شدید دباؤ کی وجہ سے لوگ ہائی بلڈ پریشر ، اور خون کی کمی کی وجہ سے ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہورہے ہیں اور پھر ان کے گردے ناکارہ ہورہے ہیں ۔ نمس کے نیفرولوجسٹ ٹی گنگا دھر نے کہا کہ دیہی علاقوں میں جسمانی مشقت زیادہ ہونے کی وجہ سے عوام درد کو دور کرنے کی ادویات استعمال کررہے ہیں جس سے ان میں گردے کے مسائل پیش آرہے ہیں ۔ محکمہ صحت کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ریاست میں گذشتہ دس برسوں سے CKD اور گردے فیل ہونے کے معاملات میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ ڈائیلاسیس رپورٹس بتاتی ہیں کہ یہ مسئلہ خواتین کے مقابلے مردوں میں زیادہ ہے جبکہ خواتین میں لیوپس نیفروس کے کیسیس میں اضافہ ہورہا ہے ۔ یہ ایک آٹو امیون بیماری ہے جو ہمارے جسم کے مدافعتی نظام ، خلیوں اور اعضا پر حملہ کرتا ہے ۔ لیوپس کی وجہ سے گردے کی بیماری وقت کے ساتھ بگڑتی سکتی ہے ۔ جو گردے فیل ہونے کا باعث بن سکتا ہے ۔ تلنگانہ میں 2013-24 کے درمیان 2235 گردے کے پیوندکاری ہوئی ۔ گردے کیلئے جیون دان میں 7796 افراد نے رجسٹریشن کرایا ہے ۔۔ 2