نوجوان نسل میں بے راہ روی، علماء و مشائخین اور عمائدین ملت کو سخت موقف اختیار کرنیکی ضرورت

   

جمعہ کے دن پب میں باحجاب لڑکی کا داخلہ ،سوشیل میڈیا پر بے شمار ردعمل سے مسلمانوں کی رسوائی کا سبب
حیدرآباد۔2ستمبر(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد کے نوجوانو ںمیں پھیل رہی بے راہ روی کو روکنے کیلئے علماء و مشائخین کے علاوہ عمائدین ملت کو سخت موقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ نوجوان نسل میں فروغ پانے والی بے حیائی پر کنٹرول کرنا وقت کی اہم ضرورت بنتا جا رہاہے کیونکہ حالیہ عرصہ میں جس طرح کے واقعات منظر عام پر آرہے ہیں وہ ملت اسلامیہ کے لئے انتہائی شرمندگی کا باعث بنتے جا رہے ہیں اور دین سے دوری کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے ان حالات کے سبب امت کی بدنامی ہونے لگی ہے۔ گذشتہ جمعہ کو شہر حیدرآباد کی مرکزی مسجد شاہی مسجد باغ عامہ میں جہاں دردوتڑپ کا اظہار کرتے ہوئے ملت اسلامیہ میں پیدا ہونے والے بگاڑ کو روکنے اور امت مسلمہ کی نوجوان نسل کو تباہی سے بچانے کیلئے خطیب مسجد کی جانب سے درس دیا جا رہاتھا اور عین اسی وقت شہر کے ایک سرکردہ علاقہ جوبلی ہلز کے شراب خانہ میں باحجاب نوجوان لڑکی کو حجاب اتارنے کے مسئلہ پر پب کے انتظامیہ اور گاہک کے درمیان تکرار چل رہی تھی۔ اس افسوسناک واقعہ کے بعد بھی اگر امت مسلمہ کو ہوش نہیں آتا ہے تو اس سے بدتر حالات رونما ہوسکتے ہیں۔ جوبلی ہلز میں واقع پب میں مسلم لڑکی کو لنچ کے وقت شراب خانہ میں حجاب اتارنے کی تاکید کرنے والے اسٹاف سے لڑکی کے ساتھ موجود شخص پانڈے پب کے عملہ سے الجھ پڑا جس کی اطلاعات کئی انگریزی اخبارات میں شائع ہوئی اور اس خبر کو اس طرح شہہ سرخیوں میں دیا گیا کہ پب میں حجاب اتارنے کی ہدایت دیتے ہوئے پب کے عملہ نے لڑکی کی مذہبی آزادی کو ٹھیس پہنچائی ہے اور پب میں صرف مغربی طرز کے کپڑوں کے ساتھ ہی داخلہ کی اجازت ہے ۔اس واقعہ پر کئی نوجوان دانستہ یا نادانستہ طور پر سوشل میڈیا پر شئیر کرتے ہوئے اس واقعہ کو قابل مذمت قرار دے رہے ہیں جبکہ مسلم لڑکی کے پب جانے کی مذمت بھی بعض گوشوںسے کی جا رہی ہے جبکہ اس طرح کے واقعات کے تدارک کیلئے اب صرف مذمت کافی نہیں ہے بلکہ ان لوگوں میں دینی شعور اجاگر کیا جانا وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ ا سطرح کے واقعات پر ذرائع ابلاغ ہمدردی کے نام پر امت کے نوجوانوں کی بے راہ روی کی حوصلہ افزائی کرنے لگا ہے اور نوجوان نسل اس طرح کی حرکات کے ذریعہ خود کو ترقی یافتہ قوم کا حصہ تصور کرنے لگے ہیں جبکہ انہیں اس بات کا احساس نہیں رہنے لگا ہے کہ وہ جو حرکت کر رہے ہیں وہ شریعت محمدی ﷺ میں انتہائی قبیح اور حرام ہے ۔ علماء اکرام اور ذمہ داران ملت اسلامیہ کیلئے نوجوانوں میں بڑھتی جا رہی بے راہ روی اور انتہائی درجہ کی بے حیائی لمحہ ٔ فکر بنی ہوئی ہے اگران مسائل کو اسی طرح نظر انداز کیا جاتا رہا توحالات مزید سنگین نوعیت اختیار کرسکتے ہیں آئے دن رجسٹرار کے دفتر کے نوٹس بورڈ پر آویزاں بین مذہبی شادیوں کی اطلاعات گشت کر رہی ہیںاور ان مسائل کے حل کے لئے اقدامات کے بجائے اسے نظر انداز کرنے کی پالیسی اور ان مسائل پر توجہ دلاتے ہوئے انہیں حل کرنے کی کوشش کرنے والوں پر تنقیدوں کا سلسلہ بند کرتے ہوئے فوری عملی اقدامات کا آغاز کرنے کی ضرورت ہے۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے کئی علاقوں میں مسلم نوجوانوں کی بے راہ روی اور بے حیائی کے مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں لیکن عمائدین ملت کو یہ تاثر دیاجا رہاہے کہ یہ کوئی سنگین مسئلہ نہیں ہے جبکہ یہ مسئلہ انتہائی سنگین نوعیت کا ہوتا جا رہاہے اور اسلام دشمن قوتیں ان امور کو استحصال کرتے ہوئے آزاد خیالی کو فروغ دینے کی منظم سازش کی جا رہی ہے اور سازش کو سمجھتے ہوئے اقدام کرنے کے بجائے بعض گوشوں کی جانب سے ہوا دی جا رہی ہے او رکہا جا رہاہے کہ موجودہ دور میں آزاد خیالی ضروری ہے لیکن حدود کا تعین ہونا چاہئے لیکن آزادی کے نام پر پب تک رسائی اور شراب خانہ میں بیٹھنے کا حق حاصل کرنے کی کوشش انتہائی افسوسناک ہے اور ان کوششوں کو روکنے کیلئے نوجوان نسل میں خواہ وہ کسی بھی تعلیمی ادارہ میں تعلیم حاصل کر رہی ہو یا کسی بھی ملٹی نیشنل کمپنی میں خدمات انجام دے رہیں ہوں انہیں دینی علوم سے بہرہ ور کرنے کی ضرورت ہے ۔والدین اور سرپرستوں کی جانب سے بھی اپنے لڑکے اور لڑکیوں کی حرکات و سکنات پر نگاہ رکھنے کے علاوہ ان کی سرگرمیوں کے متعلق ان سے دریافت کیا جانا چاہئے کیونکہ ان میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں کو فوری طور پر والدین ہی محسوس کرسکتے ہیں اسی لئے انہیں تبدیلیوں کو نظر انداز کرنے کے بجائے ان کا نوٹس لیتے ہوئے انہیں سمجھانے کی کوشش کر نی چاہئے ۔ شریعت کے تحفظ کے لئے جان نثار کرنے کا دعوی کرنے والی قوم کی بیٹیوں اور بیٹوں کو اگر پب کی زینت بننا ہے اور انہیں اگر پب کے عمل کی جانب سے لباس کی بنیاد پر روکا جاتا ہے تو اعتراض ہونے لگے تو اب یہ سمجھ لینا چاہئے کہ قوم کے اخلاق کا معیار کس درجہ پر پہنچ چکا ہے اور اس قوم کا مستقبل کس راہ پر گامزن ہے۔اسی لئے نوجوان نسل کی تباہی کو روکتے ہوئے اس امت کے مستقبل کی تباہی کو روکنے کیلئے اقدامات ناگزیر ہیں اور ان اقدامات کیلئے اب مزید وقت گنوانا مہنگا ثابت ہوسکتا ہے۔