نوجوان کارڈیاک سرجن کی قلب پر حملہ سے موت

   

نئی دہلی ۔ 30 ۔ اگست : ( ایجنسیز ) : موجودہ دور میں ہارٹ اٹیک (دل کا دورہ) سے ہونے والی اموات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ تشویش ناک امر یہ ہے کہ کم عمر نوجوان جسمانی طور پر فِٹ اور کسی بیماری میں مبتلا نہ ہونے کے باوجود اچانک دل کا دورہ پڑنے سے جان گنوا رہے ہیں۔ تمل ناڈو سے تعلق رکھنے والے کارڈیک سرجن ڈاکٹر گریڈلن رائے (عمر 39 سال) کی ہارٹ اٹیک سے موت کی خبر تاخیر سے منظر عام پر آئی۔ ڈاکٹر گریڈلن رائے، جو چنئی کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں کارڈیاک سرجن کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے چہارشنبہ کے روز حسبِ معمول وارڈ میں راؤنڈ کے دوران اچانک دل کا دورہ پڑنے سے گر پڑے۔ ساتھی ڈاکٹروں نے انہیں بچانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے۔ اسپتال انتظامیہ نے ان کی موت کی تصدیق کی۔ اُن کے ساتھی ڈاکٹر سدھیر کمار نے کہا کہ یہ نہایت افسوسناک اور چونکا دینے والی بات ہے کہ ایک کارڈیاک سرجن جو دل کی بیماریوں سے بخوبی واقف اور تمام احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا تھ، خود ہارٹ اٹیک سے فوت ہو گئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ڈاکٹر گریڈلن رائے کو کسی قسم کی کوئی صحت کی شکایت نہیں تھی۔

ماہرین کے مطابق نوجوانوں میں اچانک ہارٹ اٹیک کے بڑھتے ہوئے واقعات کی بڑی وجہ ذہنی دباؤ اور طویل وقت تک کام کرنا ہے۔ ڈاکٹروں کو روزانہ 12 سے 18 گھنٹے مسلسل کام کرنا پڑتا ہے اور کبھی کبھار ایک ہی شفٹ میں 24 گھنٹے ڈیوٹی بھی انجام دینی پڑتی ہے جس کی وجہ سے ان پر شدید دباؤ رہتا ہے۔ مزید برآں غیر صحت مند طرزِ زندگی اور ورزش کی کمی بھی اس مسئلے کے دیگر بڑے اسباب قرار دیے جا رہے ہیں۔