نوجوت سنگھ سدھو کا استعفی

   

Ferty9 Clinic

دل پھنسا زلف میں اور زلف پھنسی شانے میں
الجھنیں اور بڑھیں زلف کے سلجھانے میں
نوجوت سنگھ سدھو کا استعفی
اب کانگریس کو پنجاب میں بھی مشکل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ کانگریس کیلئے جہاں مرکزی سطح پر حالات ٹھیک نہیں ہیں وہیں ریاستی سطحوںپر بھی کانگریس بحران کا شکار ہوتی جا رہی ہے ۔ تلنگانہ میں اس کے 12 ارکان اسمبلی نے انحراف کرتے ہوئے برسر اقتدار ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی ہے ۔ گوا میں اس کے 10 ارکان منحرف ہو کر بی جے پی میں شامل ہوچکے ہیں۔ کرناٹک میں اس کے 13 ارکان اسمبلی نے استعفی پیش کردیا ہے اور ریاست میں جے ڈی ایس کی قیادت میں کانگریس کی شمولیت والی مخلوط حکومت بحران کا شکار ہے اور اس کے زوال کے اندیشے بھی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ اندیشے بھی پائے جاتے ہیںکہ کرناٹک میں جے ڈی ایس ۔ کانگریس حکومت کو زوال شکار کردئے جانے کے بعد کانگریس کی دوسری حکومتوں کو بھی نشانہ بنایا جائیگا ۔ مدھیہ پردیش اور راجستھان میں اس کے اثرات محسوس کئے جاسکتے ہیں۔ تاہم پنجاب کے تعلق سے کسی نے بھی مشکل صورتحال کا اندازہ نہیں کیا تھا ۔ پنجاب میں جو مسئلہ پیدا ہوا ہے اس میں کسی دوسری جماعت کا کوئی رول نہیں ہے بلکہ کانگریس کی داخلی خلفشار اور آپسی رنجشوں کی وجہ سے صورتحال بگڑ رہی ہے ۔ کانگریس نے پنجاب میں اسمبلی انتخابات جیت کر اقتدار حاصل کیا تھا ۔ مشکل حالات میں ریاست میں کیپٹن امریندر سنگھ نے پارٹی کو سنبھالے رکھا اور اسمبلی انتخابات میںپارٹی کو جیت بھی دلائی ۔ نوجوت سدھو انتخابات سے قبل ہی کانگریس میں شامل ہوئے ۔ رکن اسمبلی منتخب ہوئے اور پھر انہیں وزارت بھی سونپ دی گئی ۔ ایسا لگتا ہے کہ نوجوت سنگھ سدھو چاہتے تھے کہ ان کی اہلیہ کو لوک سبھا کا ٹکٹ بھی دیا جائے ۔ امریندرسنگھ نے ایسا ہونے نہیں دیا جس کے بعد سدھو اور امریندر سنگھ کے درمیان اختلافات پیدا ہوتے گئے جو بعد میں مزید شدت اختیار کرگئے ۔ کانگریس نے اس صورتحال کو سمجھ لیا تھا اور لوک سبھا انتخابات میں نوجوت سنگھ سدھو کو انتخابی مہم کے اسٹارس میں شامل کیا اور انہیں سارے ملک کے دورے کروائے ۔ سدھو اس سے بھی مطمئن نہیں ہوئے تھے ۔ اس کے علاوہ امریندر سنگھ بھی سدھو کی کارکردگی سے خوش نہیں تھے ۔
لوک سبھا انتخابات میں کچھ شہری علاقوں میں کانگریس کو توقع کے مطابق کامیابی نہ ملنے سے سدھو کی کارکردگی پر سوال پیدا ہوا ۔ کیپٹن امریندر سنگھ کا کہنا تھا کہ سدھو نے اپنی وزار ت سے انصاف نہیں کیا اس کی وجہ سے رائے دہندوں نے کانگریس کا ساتھ چھوڑ دیا ۔ امریندر سنگھ نے کابینہ میںرد و بدل کیا اور سدھو کو کچھ قلمدانوں سے محروم کرکے نئے قلمدان دئے ۔ سدھو نے اس کو اپنی تذلیل سمجھی اور فوری امریندر سنگھ کی شکایت لے کر دہلی پہونچ گئے ۔ راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی سے ملاقات کی تھی اور آج انہوں نے اپنا مکتوب استعفی منظر عام پر بھی لادیا ۔ یہ سدھو کی غیرمطمئن طبیعت کا نتیجہ ہوسکتا ہے کہ ریاست میں کانگریس کیلئے داخلی خلفشار کی کیفیت پیدا ہورہی ہے جو بعد میں کسی بڑے بحران کا پیش خیمہ بھی ہوسکتی ہے ۔ کانگریس کو اس مسئلہ پر وقت ہاتھ سے نکلنے سے پہلے ہی توجہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ سدھو کو مطمئن کرنے اور انہیں پارٹی ڈسیپلن کے مطابق ڈھالنے میں کانگریس اگر تاخیر کرتی ہے تو پنجاب میں بھی اس کیلئے مشکلات کے اندیشوںکو مسترد نہیں کیا جاسکتا ۔ کسی ریاست میں چیف منسٹر پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور اگر کوئی خود کو پارٹی ڈسیپلن سے بڑھ کر تصور کرتا ہے تو اس کی غلط فہمیوں کو دور کیا جانا چاہئے ۔ جب کسی کو چیف منسٹر بناکر ذمہ داری سونپی گئی ہے تو اس کو اختیارات بھی دئے جانے کی ضرورت ہوتی ہے ۔
نوجوت سنگھ سدھو کے مسئلہ پر کانگریس جتنا زیادہ ٹال مٹول سے کام لے گی اتنا اس کیلئے مشکل میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔ خود سدھو کو بھی چاہئے کہ وہ داخلی اختلافات کو بحران کی شکل تک پہونچانے سے گریز کریں۔ شخصی اختلاف رائے ہر ایک کا بنیادی حق ہوسکتا ہے لیکن پارٹی کے مفادات کو بھی ذہن نشین رکھتے ہوئے کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ جہاں ملک بھر میں پارٹی کیلئے مشکل حالات پیدا کئے جارہے ہیں وہ کئی محاذوںپر نبرد آزما ہے اسے پنجاب جیسی ریاست میں بھی پریشانی سے بچایا جاسکے ۔ پنجاب میں اپوزیشن ابھی خود کو مجتمع نہیں کرپایا ہے اور بی جے پی اور اکالی دل عوام کو ابھی اپنی جانب راغب نہیں کرپائے ہیں اور اگر کانگریس میں داخلی خلفشار پیدا ہوتا ہے تو ان جماعتوں کو اپنے لئے جگہ بنانے کا موقع مل جائیگا ۔